سب سے بڑا حق اللہ تعالیٰ کا ہے

سب سے بڑا حق اللہ تعالیٰ کا ہے

سورۃ مطففین کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک بہت بڑے گناہ اورمعصیت کی طرف متوجہ فرمایا ہے کہ وہ گناہ ہے ’’ کم ناپنا اورکم تولنا ‘‘ یعنی جب کوئی چیز کسی کو بیچی جائے تو جتنا اس خریدنے والے کا حق ہے اس سے کم تول کردے ۔ عربی میں کم تولنے کو ’’ تطفیف ‘‘ کہا جاتا ہے ، اوریہ ’’ تطفیف ‘‘ صرف تجارت اور لین دین کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ’’ تطفیف ‘‘ کا مفہوم بہت وسیع ہے وہ یہ کہ دوسرے کا جو بھی حق ہمارے ذمے واجب ہے اس کو اگر اس کا حق کم کرکے دیں تو یہ ’’ تطفیف ‘‘ کے اندر داخل ہے۔
مثلاً ایک شخص کسی محکمے میں، کسی دفتر میں آٹھ گھنٹے کا ملازم ہے تو گویا کہ اس نے یہ آٹھ گھنٹے اس محکمے کے ہاتھ فروخت کردیئے ہیں، اور معاہدہ کرلیا ہے کہ میں آٹھ گھنٹے آپ کے پاس کام کروں گا اوراس کے عوض اس کو اجرت اور تنخواہ ملے گی، اب اگر وہ اجرت تو پوری لیتا ہے لیکن اس آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی میں کمی کر لیتا ہے اور اس میں سے کچھ وقت اپنے ذاتی کاموں میں صرف کرلیتا ہے تو اس کا یہ عمل بھی ’’ تطفیف ‘‘ کے اندرداخل ہے ، حرام ہے۔
اور سب سے بڑا حق اللہ تعالیٰ کا ہے ، اس حق کی ادائیگی میں کمی کرنا بھی کم ناپنے اور کم تولنے میں داخل ہے ۔ چنانچہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک صاحب نے جلدی جلدی نماز ادا کرلی ، نہ رکوع اطمینان سے کیا، نہ سجدہ اطمینان سے کیا تو ایک صحابی نے ان کی نماز دیکھ کر فرمایا کہ ’’ لقد طففت ‘‘ تم نے نماز کے اندر تطفیف کی ، یعنی اللہ تعالیٰ کا پورا حق ادا نہیں کیا۔
’’ تطفیف ‘‘کے اندر وہ تمام صورتیں بھی داخل ہیں جس میں ایک شخص اپنا حق تو پورا پورا وصول کرنے کیلئے ہروقت تیار رہے لیکن اپنے ذمے جو دوسروں کے حقوق واجب ہیں وہ ادا نہ کرے۔ یہ سب حق تلفی اور ’’ تطفیف ‘‘ کے اندر داخل ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ’’تطفیف ‘‘ کے وبال و عذاب سے نجات عطا ء فرمائے آمین۔(اصلاحی خطبات جلد ششم)

شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے ملفوظات اور تعلیمات پڑھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں:۔
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/mufti-taqi-usmani-words/

Most Viewed Posts

Latest Posts

اَسلاف میں تقلیدِ معین عام تھی

اَسلاف میں تقلیدِ معین عام تھی چنانچہ سلف سے لے کر خلف تک اختلافی مسائل میں ایسے ہی جامع افراد کی تقلیدِ معین بطور دستور العمل کے شائع ذائع رہی ہے اور قرنِ صحابہ ہی سے اس کا وجود شروع ہوگیا تھا۔ مثلاً حدیث حذیفہ میں جس کو ترمذی نے روایت کیا ہے، ارشادِ نبوی ہے:انی...

read more

اَسلاف بیزاری ، عدمِ تقلید یا ایک وقت ایک سے زیادہ آئمہ کی تقلید کرلینے کے چند مفاسد

اَسلاف بیزاری ، عدمِ تقلید یا ایک وقت ایک سے زیادہ آئمہ کی تقلید کرلینے کے چند مفاسد حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ اپنے رسالہ ’’اجتہاد و تقلید‘‘ کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں:۔۔۔۔۔ساتھ ہی اس پر غور کیجئے کہ اس ہرجائی پن اور نقیضین میں دائر رہنے کی عادت کا...

read more

سبع سنابل سے ماخوذاربعۃ انہار

سبع سنابل سے ماخوذاربعۃ انہار غور کیا جائے تو شرعی اصطلاح میں ان ساتوں سنابل کا خلاصہ چار ارکان:۔۔ 1ایمان 2اسلام 3احسان 4 اور اعلاء کلمۃ اللہ ہیںجو حقیقتاً انہارِ اربعہ ہیں۔ ’’نہران ظاہران و نہران باطنان‘‘ ایمان و احسان باطنی نہریں ہیں اور اسلام و اعلاء کلمۃ اللہ...

read more