توبہ کا بیان

توبہ کا بیان
رمضان کے اختتام پر توبہ کی ترغیب:۔

رمضان کے مہینے کا اختتام توبہ کے ساتھ کرو، اللہ کی نافرمانیوں سے باز آؤ، اور اس کی رضا کے کاموں کی طرف رجوع کرو۔ کیونکہ کوئی بھی انسان خطا اور کوتاہی سے خالی نہیں۔ ہر بنی آدم گناہگار ہے، اور بہترین گناہگار وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی تعلیمات میں ہمیں استغفار اور توبہ کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ۔ “اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو، وہ تمہیں ایک وقت مقرر تک اچھی زندگی دے گا اور ہر فضیلت والے کو اس کا فضل عطا کرے گا۔ اور اگر تم منہ موڑو گے تو مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔” (ہود: 3)۔
۔ “اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی طرف خالص توبہ کرو، امید ہے کہ تمہارا رب تمہاری برائیاں دور کر دے گا اور تمہیں ان باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔” (التحریم: 8)۔
۔ “بے شک اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاکیزہ رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔” (البقرہ: 222)۔

توبہ کی فضیلت احادیث کی روشنی میں:۔

حضرت اغر بن یسار المزنیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اے لوگو! اللہ کی طرف توبہ کرو اور اس سے بخشش مانگو، کیونکہ میں روزانہ سو مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔” (مسلم)۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “میں دن میں ستر سے زیادہ مرتبہ اللہ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں۔” (بخاری)۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی ویران جگہ میں اپنی اونٹنی کھو دیتا ہے، جس پر اس کا کھانا اور پانی ہو۔ جب وہ مایوس ہو کر ایک درخت کے نیچے لیٹتا ہے، اور اچانک اسے اپنی اونٹنی مل جاتی ہے، تو وہ خوشی سے کہتا ہے: اے اللہ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں (غلطی سے)۔” (مسلم)۔

توبہ کی اہمیت اور فوری کرنے کی تاکید:۔

توبہ میں تاخیر جائز نہیں، کیونکہ ہمیں نہیں معلوم کہ کب موت آ جائے۔ گناہوں پر اصرار سے دل سخت ہو جاتا ہے، ایمان کمزور ہو جاتا ہے۔ شیطان کے دھوکے میں آ کر انسان بڑے بڑے گناہوں میں پڑ جاتا ہے۔ گناہوں کی عادت بن جاتی ہے، اور انسان ان سے چھٹکارا نہیں پا سکتا۔

توبہ کے دروازے کھلے ہیں:۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بے شک اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے، یقیناً وہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔” (الزمر: 53)۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اللہ بندے کی توبہ قبول کرتا ہے جب تک کہ اس کی روح حلق میں نہ پہنچ جائے۔” (ترمذی، احمد)۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے ہر انسان کی توبہ قبول کرتا ہے۔” (مسلم)۔
وصلَّى الله وسلَّم على نبيِّنا محمدٍ وعلى آلِهِ وصحبِه أجمعين۔

رمضان المبارک سے متعلق معلومات اور دیگر مضامین پڑھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں:۔
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/mufti-taqi-usmani-words/

Most Viewed Posts

Latest Posts

اَسلاف میں تقلیدِ معین عام تھی

اَسلاف میں تقلیدِ معین عام تھی چنانچہ سلف سے لے کر خلف تک اختلافی مسائل میں ایسے ہی جامع افراد کی تقلیدِ معین بطور دستور العمل کے شائع ذائع رہی ہے اور قرنِ صحابہ ہی سے اس کا وجود شروع ہوگیا تھا۔ مثلاً حدیث حذیفہ میں جس کو ترمذی نے روایت کیا ہے، ارشادِ نبوی ہے:انی...

read more

اَسلاف بیزاری ، عدمِ تقلید یا ایک وقت ایک سے زیادہ آئمہ کی تقلید کرلینے کے چند مفاسد

اَسلاف بیزاری ، عدمِ تقلید یا ایک وقت ایک سے زیادہ آئمہ کی تقلید کرلینے کے چند مفاسد حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ اپنے رسالہ ’’اجتہاد و تقلید‘‘ کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں:۔۔۔۔۔ساتھ ہی اس پر غور کیجئے کہ اس ہرجائی پن اور نقیضین میں دائر رہنے کی عادت کا...

read more

سبع سنابل سے ماخوذاربعۃ انہار

سبع سنابل سے ماخوذاربعۃ انہار غور کیا جائے تو شرعی اصطلاح میں ان ساتوں سنابل کا خلاصہ چار ارکان:۔۔ 1ایمان 2اسلام 3احسان 4 اور اعلاء کلمۃ اللہ ہیںجو حقیقتاً انہارِ اربعہ ہیں۔ ’’نہران ظاہران و نہران باطنان‘‘ ایمان و احسان باطنی نہریں ہیں اور اسلام و اعلاء کلمۃ اللہ...

read more