رمضان المبارک سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا بہترین طریقہ

رمضان المبارک سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا بہترین طریقہ

رمضان المبارک ایک عظیم نعمت اور بابرکت مہینہ ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بے شمار فضائل اور نیکیاں کمانے کے مواقع عطا کیے ہیں۔ یہ سوال فطری طور پر پیدا ہوتا ہے کہ اس مبارک مہینے سے سب سے بہتر طور پر کیسے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب نبی کریم ﷺ کی سنت کی پیروی میں مضمر ہے، کیونکہ یہی راستہ سب سے زیادہ محفوظ، کامیاب اور باعثِ برکت ہے۔

نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کی اہمیت

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:۔
۔”من عمل عملاً ليس عليه أمرنا فهو رد”۔
جو کوئی ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو، تو وہ رد کر دیا جائے گا۔ صحیح مسلم
اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:۔
۔”صلوا كما رأيتموني أصلي”۔
نماز اسی طرح پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھا ہے۔۔ بخاری و مسلم
یہ احادیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ عبادات اور دین کے معاملات میں اصل رہنمائی نبی کریم ﷺ کی سنت ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی محبت کے حصول کا راستہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع کو قرار دیا ہے:۔
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ
ترجمہ: کہہ دو! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔ آل عمران: 31۔
ان تمام آیات سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور کامل اتباع بہت ضروری ہے ۔

عمل کی قبولیت کے دو بنیادی اصول

اللہ کے ہاں کسی بھی عبادت کے قبول ہونے کے دو بنیادی اصول ہیں، جن کا رمضان المبارک میں خاص طور پر خیال رکھنا ضروری ہے:۔
۔1۔ اخلاصِ نیت
عبادت کا اصل مقصد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا ہونی چاہیے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا:۔
قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ
ترجمہ: کہہ دو! بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے۔ الأنعام: 162-163۔
اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا:۔
وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
مفہومی ترجمہ: اور انہیں صرف اسی بات کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اس کی عبادت کریں ۔ البينة: 5۔
ان دونوں آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ اپنی عبادات کو صرف اللہ کی رضا کے لئے خالص کرنا چاہئے ۔ اگر اخلاص نیت نہ ہوگی تو عمل قبول نہ ہوں گے ۔
۔2۔ نبی کریم ﷺ کی اتباع
عبادت کو سنت کے مطابق ادا کرنا ضروری ہے، کیونکہ بغیر اتباع کے عبادت کا قبول ہونا ممکن نہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا:۔
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا
مفہومی ترجمہ: بے شک تمہارے لیے رسول اللہ (ﷺ) کی ذات میں بہترین نمونہ ہے، اس کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہے ۔ الأحزاب: 21۔
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ انسانی زندگی میں بہترین اسوہ رسول اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہے ۔ اگر اس سے انحراف کیا تو پھر عمل قبول نہ ہوگا ۔
رمضان میں عبادات کو مؤثر بنانے کا بہترین طریقہ
رمضان المبارک میں عبادات کو مؤثر اور فائدہ مند بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی تمام تر عبادات کو نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق انجام دیں۔ یہی وہ محفوظ اور کامیاب راستہ ہے جو ہمیں اللہ کی رضا کے قریب کر سکتا ہے۔

۔🔹 رمضان المبارک میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کیسے حاصل کریں؟

۔✅ روزہ اور عبادات میں اخلاص پیدا کریں
۔✅ نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق عبادات بجا لائیں
۔✅ قیام اللیل (تراویح) کا اہتمام کریں
۔✅ قرآن کی تلاوت اور تدبر کریں
۔✅ صدقہ و خیرات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں
۔✅ دعا اور استغفار کو معمول بنائیں
خلاصہ یہ ہے کہ
رمضان المبارک ایک انمول موقع ہے، جس میں اللہ تعالیٰ بے شمار رحمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس مبارک مہینے کو نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق گزاریں اور ہر عبادت کو اخلاص اور اتباعِ سنت کے ساتھ انجام دیں، تاکہ ہماری تمام نیکیاں اللہ کے ہاں قبول ہوں اور ہم آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔

رمضان المبارک سے متعلق معلومات اور دیگر مضامین پڑھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں:۔
Ramadhan Ul Mubarak Guide

Most Viewed Posts

Latest Posts

اَسلاف میں تقلیدِ معین عام تھی

اَسلاف میں تقلیدِ معین عام تھی چنانچہ سلف سے لے کر خلف تک اختلافی مسائل میں ایسے ہی جامع افراد کی تقلیدِ معین بطور دستور العمل کے شائع ذائع رہی ہے اور قرنِ صحابہ ہی سے اس کا وجود شروع ہوگیا تھا۔ مثلاً حدیث حذیفہ میں جس کو ترمذی نے روایت کیا ہے، ارشادِ نبوی ہے:انی...

read more

اَسلاف بیزاری ، عدمِ تقلید یا ایک وقت ایک سے زیادہ آئمہ کی تقلید کرلینے کے چند مفاسد

اَسلاف بیزاری ، عدمِ تقلید یا ایک وقت ایک سے زیادہ آئمہ کی تقلید کرلینے کے چند مفاسد حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ اپنے رسالہ ’’اجتہاد و تقلید‘‘ کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں:۔۔۔۔۔ساتھ ہی اس پر غور کیجئے کہ اس ہرجائی پن اور نقیضین میں دائر رہنے کی عادت کا...

read more

سبع سنابل سے ماخوذاربعۃ انہار

سبع سنابل سے ماخوذاربعۃ انہار غور کیا جائے تو شرعی اصطلاح میں ان ساتوں سنابل کا خلاصہ چار ارکان:۔۔ 1ایمان 2اسلام 3احسان 4 اور اعلاء کلمۃ اللہ ہیںجو حقیقتاً انہارِ اربعہ ہیں۔ ’’نہران ظاہران و نہران باطنان‘‘ ایمان و احسان باطنی نہریں ہیں اور اسلام و اعلاء کلمۃ اللہ...

read more