روزے کے واجب آداب

روزے کے واجب آداب

اے ایمان والو! جان لو کہ روزے کے کئی آداب ہیں، جن کے بغیر روزہ مکمل نہیں ہوتا، اور ان پر عمل کیے بغیر روزے کی برکت اور تاثیر بھی مکمل نہیں ہوتی۔ یہ آداب دو طرح کے ہیں:۔
واجب آداب: وہ جنہیں لازمی طور پر اختیار کرنا ضروری ہے۔
مستحب آداب: وہ جنہیں اپنانا بہتر ہے لیکن لازم نہیں۔
روزے کے لازمی آداب:۔

۔1۔ نماز کی پابندی

سب سے اہم واجب آداب میں سے یہ ہے کہ روزے دار اپنی تمام فرض عبادات کی پابندی کرے، خاص طور پر نماز جو اسلام کا سب سے بڑا رکن ہے۔ نماز کو اس کے ارکان، واجبات اور شرائط کے ساتھ صحیح طریقے سے ادا کرنا ضروری ہے، اور اسے وقت پر اور جماعت کے ساتھ مسجد میں ادا کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَخَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا (مریم: 59)۔
روزے کا مقصد تقویٰ حاصل کرنا ہے، اور جو شخص نماز کو ضائع کرتا ہے، وہ تقویٰ کے اصل مقصد سے دور ہو جاتا ہے۔

۔2۔ جھوٹ اور بری باتوں سے پرہیز

روزہ دار کو ہر اس چیز سے بچنا چاہیے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام قرار دی ہے، خاص طور پر جھوٹ، غیبت، اور چغلی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: “جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا، تو اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔” (بخاری)۔
جھوٹ میں سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ کوئی اللہ یا اس کے رسول ﷺ پر غلط بات منسوب کرے۔

۔3۔ غیبت سے اجتناب

غیبت یعنی کسی مسلمان بھائی کے پیٹھ پیچھے ایسی بات کرنا جو وہ ناپسند کرے، حرام ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: “غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ایسا ذکر کرو، جو اسے ناگوار ہو۔” (مسلم)۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا (الحجرات: 12)۔

۔4۔ چغلی (نمیمہ) سے پرہیز

چغلی یعنی لوگوں کے درمیان فساد ڈالنے کے لیے ایک کی بات دوسرے کو پہنچانا سخت گناہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: “چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔” (بخاری و مسلم)۔

۔5۔ دھوکہ اور فریب سے بچنا

خرید و فروخت، کاروبار، اور دیگر معاملات میں دھوکہ دینا سخت حرام ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: “جو دھوکہ دے، وہ ہم میں سے نہیں۔” (مسلم)۔

۔6۔ موسیقی اور گانے بجانے سے اجتناب

تمام گانے بجانے کے آلات، جیسے گٹار، پیانو، اور دیگر موسیقی کے آلات حرام ہیں، خاص طور پر وہ جو برے جذبات کو ابھارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ (لقمان: 6)۔
ابن مسعودؓ فرماتے ہیں: “اللہ کی قسم! اس آیت میں لہو الحدیث سے مراد گانا بجانا ہے۔”۔

۔7۔ نرمی اور صبر اختیار کرنا

روزہ دار کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور دوسروں کے ساتھ بدزبانی یا جھگڑا نہیں کرنا چاہیے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: “جب کوئی تم سے لڑے یا برا بھلا کہے، تو کہہ دو: میں روزے سے ہوں۔” (بخاری و مسلم)۔

۔8۔ روزے کے دوران بردباری اور وقار

حضرت جابرؓ فرماتے ہیں: “جب تم روزہ رکھو، تو تمہاری زبان، نظر، اور کان سب روزے میں ہونے چاہئیں۔ تم کسی کو ایذا نہ دو، نہ ہی بےہودہ بات کرو، اور روزہ رکھ کر عام دنوں کی طرح نہ رہو۔”۔
خلاصہ یہ ہوا کہ روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل تربیتی عمل ہے جو ہمارے اخلاق، کردار، اور تقویٰ کو مضبوط بناتا ہے۔
اللَّهُمَّ احْفَظْ عَلَيْنَا دِينَنَا، وَكُفَّ جَوَارِحَنَا عَمَّا يُغْضِبُكَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلِوَالِدِينَا وَلِجَمِيعِ الْمُسْلِمِينَ، وَصَلَّى اللَّهُ وَسَلَّمَ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ۔

رمضان المبارک سے متعلق معلومات اور دیگر مضامین پڑھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں:۔
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/ramadhan_urdu_islamic_guide_free/

Most Viewed Posts

Latest Posts

اَسلاف میں تقلیدِ معین عام تھی

اَسلاف میں تقلیدِ معین عام تھی چنانچہ سلف سے لے کر خلف تک اختلافی مسائل میں ایسے ہی جامع افراد کی تقلیدِ معین بطور دستور العمل کے شائع ذائع رہی ہے اور قرنِ صحابہ ہی سے اس کا وجود شروع ہوگیا تھا۔ مثلاً حدیث حذیفہ میں جس کو ترمذی نے روایت کیا ہے، ارشادِ نبوی ہے:انی...

read more

اَسلاف بیزاری ، عدمِ تقلید یا ایک وقت ایک سے زیادہ آئمہ کی تقلید کرلینے کے چند مفاسد

اَسلاف بیزاری ، عدمِ تقلید یا ایک وقت ایک سے زیادہ آئمہ کی تقلید کرلینے کے چند مفاسد حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ اپنے رسالہ ’’اجتہاد و تقلید‘‘ کے آخر میں تحریر فرماتے ہیں:۔۔۔۔۔ساتھ ہی اس پر غور کیجئے کہ اس ہرجائی پن اور نقیضین میں دائر رہنے کی عادت کا...

read more

سبع سنابل سے ماخوذاربعۃ انہار

سبع سنابل سے ماخوذاربعۃ انہار غور کیا جائے تو شرعی اصطلاح میں ان ساتوں سنابل کا خلاصہ چار ارکان:۔۔ 1ایمان 2اسلام 3احسان 4 اور اعلاء کلمۃ اللہ ہیںجو حقیقتاً انہارِ اربعہ ہیں۔ ’’نہران ظاہران و نہران باطنان‘‘ ایمان و احسان باطنی نہریں ہیں اور اسلام و اعلاء کلمۃ اللہ...

read more