نماز ہر حال میں فرض ہے
از افادات : شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ
نماز کو اللہ تعالیٰ نے ایسی عبادت بنایا ہے کہ کسی حالت میں ایک مومن کے لئے اس کو چھوڑنے کی گنجائش نہیں ہے اگر کوئی شخص سفر میں ہے‘ اللہ تعالیٰ نے اتنی آسانی کردی کہ چار کے بجائے دو رکعتیں پڑھ لو‘ بیمار ہیں‘ کھڑے ہوکر نہیں پڑھ سکتے بیٹھ کر پڑھ لو‘ بیٹھ کے نہیں پڑھ سکتے تو لیٹ کے پڑھ لو‘ رکوع سجدہ نہیں کرسکتے تو اشارہ کرلو لیکن بدترین بیماری کی حالت میں بھی ایک مومن کیلئے نماز چھوڑنے کی اجاز ت نہیں‘ کسی بھی حالت میں ہوآدمی کو پڑھنی ہے‘ اللہ تعالیٰ نے مختلف حالتوں میں آسانیاں پیدا کردی ہیں۔
بیٹھ کے پڑھ لو‘ لیٹ کے پڑھ لو جبکہ تمہیں پوری طرح نماز پڑھنے کی استطاعت نہیں ہے بیماری کی وجہ سے اسی حالت میں پڑھو‘ یہاں تک کہ بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جس میں آدمی مسلسل ناپاک رہتا ہے اور پاک ہونے کا امکان نہیں رہتا‘ فرمایا ناپاکی کی حالت میں پڑھ لو لیکن چھوڑو نہیں‘ یہ ایسی چیز اللہ تعالیٰ نے بنائی ہے نماز اور حقیقت میں دیکھو تو یہ کوئی ایسی چیز نہیں جس کو آدمی بوجھ سمجھے۔ یہ تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے دربار میں حاضری کے دن میں پانچ مواقع عطا فرمائے ہیں کہ ہمارے پاس آجائو اور ہمارا قرب حاصل کرلو۔
نماز کے جو پانچ اوقات اسلام نے مقرر فرمائے ہیں ان کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ وہ انسان کی زندگی میں نظم و ضبط پیدا کرتے ہیں، اﷲ تعالیٰ کی طرف سے حکم یہ بھی دیا جاسکتا تھا کہ ہر شخص جس وقت چاہے پانچ نمازیں پڑھ لیا کرے، لیکن نمازوں کے پانچ اوقات مقرر فرما کر اسلام نے ایک مسلمان کی پوری زندگی کو منظم بنادیا ہے، اس طریقے سے ایک نمازی مسلمان اپنے چوبیس گھنٹے کے معمولات کو بڑی آسانی سے پانچ حصوں پر منقسم کرکے اپنا بہترین نظام الاوقات ترتیب دے سکتا ہے جس میںاپنی ذاتی ضروریات، دنیوی مشاغل اور اﷲ تعالیٰ کے حقوق کا بہترین امتزاج ہو۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے ملفوظات اور تعلیمات پڑھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں:۔
https://readngrow.online/category/mufti-taqi-usmani-words/

