عاشورہ میں کیے جانیوالے دیگر اعمال
عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا حکم تو برحق ہے لیکن روزہ کے علاوہ لوگوں نے جو اور اعمال اختیار کر رکھے ہیں۔۔۔ ان کی قرآن و سنت میں کوئی بنیاد نہیں۔۔۔ مثلاً بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس دن کھچڑا پکانا ضروری ہے۔۔۔ اس قسم کی بات نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی نہ صحابہ تابعین اور بزرگان نے اس پر عمل کیا۔
ہاں ایک ضعیف حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص عاشورہ کے دن اپنے گھروالوں پر جو اپنے عیال میں ہیں (مثلاً بیوی بچے ملازم وغیرہ) ان کو عام دنوں کی نسبت عمدہ اور اچھا کھانا کھلائے۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ اس کی روزی میں برکت عطا فرمائیں گے۔۔۔ یہ حدیث اگرچہ سند کے اعتبار سے مضبوط نہیں۔۔۔ لیکن اگر کوئی شخص اس پر عمل کرے تو کوئی مضائقہ نہیں۔۔۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ہے کہ اس عمل پر جو فضیلت بیان کی گئی ہے وہ ان شاء اللہ حاصل ہوگی۔۔۔ لہٰذا اس دن گھروالوں پر کھانے میں وسعت کرنی چاہیے۔۔۔ اس کے علاوہ لوگوں نے جو اپنی طرف سے چیزیں گھڑی ہیں۔۔۔ ان کی کوئی اصل اور بنیاد نہیں۔
اہل تشیع اس مہینے میں جو کچھ کرتے ہیں وہ اپنے مسلک کے مطابق کرتے ہیں۔ لیکن بہت سے اہل سنت حضرات بھی ایسی مجالس میں شریک ہو جاتے ہیں جو بدعت اور منکر کی تعریف میں آ جاتے ہیں۔۔۔ قرآن کریم نے صاف حکم فرما دیا کہ اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو بلکہ ان اوقات کو اللہ کی عبادت ذکر اور اللہ کے لیے روزہ رکھنے میں صرف کرو۔۔۔ اس کی طرف رجوع عبادت و مناجات میں خرچ کرو۔
اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس مہینے کی حرمت اور عظمت سے فائدہ اٹھانے اور اپنی رضا کے مطابق اس دن کو گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین! (اصلاحی خطبات جلد ۱۴)
شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے ملفوظات اور تعلیمات پڑھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں:۔
https://readngrow.online/category/mufti-taqi-usmani-words/

