تقلید شخصی
ارشاد فرمایا کہ نفس کی آزادی اور بے راہ روی کا علاج تقلید شخصی سے بہتر کوئی نہیں ۔ ہمارے استاد حضرت مولانا محمد یعقوب صاحبؒ تو اپنے معاصرین کی بھی تقلید کرتے تھے۔ صوفیائے کرام کی اصطلاح میں تقلید شخصی ہی کا نام وحدت مطلب ہے یعنی کسی ایک شیخ کو اپنا مربی و مصلح بنا کر تمام معاملات میں اسی کے تابع عمل کیا جائے۔ مختلف مشائخ اور بزرگوں کے اعمال پر نظر ڈال کر اپنے لئے کوئی راہ عمل تجویز کرنے والا نفس کے دھوکے سے کبھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔(ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر ۲۴)
