مناظرہ کے قصد سے بھی مخالفین کی کتابوں کا مطالعہ مضر ہے
فرمایا کہ مناظرہ کے قصد سے بھی مخالفین کی کتابیں نہ دیکھنا چاہئے کیونکہ پہلوان اگر کسی سے کشتی کرنا چاہے تو اس کو پہلے یہ دیکھ لینا چاہئے کہ مقابل اپنے سے کمزور ہے یا زبردست اگر کمزور ہو تو مقابلہ کرے ورنہ اس سے دور ہی رہے۔ ایسے شخص کا مقابلہ وہ کرے جو اس سے زبردست ہو۔ پس محقق کے سوا کسی کو اجازت نہیں کہ مخالفین کے رد کے درپے ہو۔ کیونکہ غیر محقق پر اندیشہ ہے کبھی خود ہی شک میں نہ پڑ جاوے۔(ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر ۲۳)
