دارالعلوم دیوبند کے آغاز پر سرسید احمد کا گمان

دارالعلوم دیوبند کے آغاز پر سرسید احمد کا گمان

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ جب مدرسہ دیوبند قائم ہوا اور بنیاد پڑی تو سر سید ا حمد خان نے کہا تھا کہ کیا ہوگا اور دو چار قل اعوذئیے بڑھ جائیں گے۔ یہ معلوم نہ تھا کہ تمہارے جادو کو موسیٰ علیہ السلام کی طرح ہباء منثورا کرنیوالی جماعت یہی ہوگی۔ وقتی گر ہندوستان میں حق تعالیٰ جماعت کو پیدا نہ فرماتے تو چہار طرف سے الحاد اور دھریت کے چشمے ہندوستان میں ابل پڑتے اورابھی ابلنے میں کون سی کسر رہ گئی لیکن قانون قدرت کے مطابق ہر فرعو نے راموسی کا مصداق یہ جماعت ہوگئی جس کے متعلق مخبر صادق جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما گئے ہیں ’’لایزال طائفۃ من امتی منصورین علی الحق لایضرہم من خذلہم‘‘ ورنہ ان کا مکر اور انکی چالاکیاں ایسی تھیں جیسے ارشاد ہے ’’وان کان مکرہم لتزول منہ الجبال‘‘ ان کے تمام مکر اور کید اسلام کی دشمنی پر تلے ہوئے تھے۔
لیکن حق تعالیٰ وعدہ فرماتے ہیں ’’انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون‘‘ تو اس کے ماتحت یہی ایک جماعت پیدا فرمائی گئی۔ اس لئے کہ عادۃ الٰہیہ کے موافق انسان کے وجود کو بھی اسباب حفاظت دین میں واسطہ بنایا گیا ہے۔
ایسا ہی وعدہ ایک دوسری جگہ خداوند جل جلالہ فرماتے ہیں کلام پاک میں۔
’’یریدون ان یطفئوا نور اللہ بافواہہم واللہ متم نورہ ولوکرہ الکفرون‘‘ یہی سلسلہ مضلین اور ہادین کا برابر چلا آتا رہا حتیٰ کہ اب اس زمانہ پرفتن اور پر آشوب میں جبکہ اسلام پر چہار طرف سے نرغہ ہے۔
تمام بدخواہ اسلام اسلام پر دانت پیس رہے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ چودھویں صدی کا ایک طاغوت نکل آیا۔
اس نے اسلام اور مسلمانوں کوفنا کرادینے اور ختم کرادینے کی کوئی تدبیر اٹھا نہیں رکھی۔ اللہ ہی نے حفاظت فرمائی۔ باوجود عوام مسلمان اور لیڈروں اوران کے ہم خیال مولویوں کے اس کے دام میں آجانے کے بھی بڑی حق تعالیٰ کی رحمت مسلمانوں پر ہوئی ورنہ معاملہ ہی درہم برہم ہوجاتا۔
اس کی چالاکیاں اور مکرو فریب کو سمجھنے والی بھی ایک جماعت حق تعالیٰ نے پیدا فرمادی جولوگوں کو آگاہ کرتی رہی گو اس پر ہر قسم کے الزامات اور بہتان باندھے لیکن وہ جماعت ’’لایخافون لومۃ لائم‘‘ پر عمل کرتے ہوئے اظہار حق کرتی رہی۔ ایسے اسباب کا پیدا فرما دینا یہی رحمت ہے ورنہ ان لیڈروں اوران کے ہم خیال مولویوں نے تو آنکھیں بند کرکے مسلمانوں کے تباہ اور برباد کرانے کا بیڑا اٹھا ہی لیا تھا۔ اللہ تعالیٰ سمجھ اور فہم عطاء فرمائیں اور محفوظ رکھیں۔
(ملفوظات حکیم الامت جلد نمبر ۶)

Most Viewed Posts

Latest Posts

تقلید کا دور کبھی ختم نہیں ہو سکتا

تقلید کا دور کبھی ختم نہیں ہو سکتا حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:۔۔’’اجتہاد فی الدین کا دور ختم ہو چکا توہو جائے مگر اس کی تقلید کا دور کبھی ختم نہیں ہو سکتا‘ تقلید ہر اجتہاد کی دوامی رہے گی خواہ وہ موجودہ ہو یا منقضی شدہ کیونکہ...

read more

طریق عمل

طریق عمل حقیقت یہ ہے کہ لوگ کام نہ کرنے کے لیے اس لچر اور لوچ عذر کو حیلہ بناتے ہیں ورنہ ہمیشہ اطباء میں اختلاف ہوتا ہے وکلاء کی رائے میں اختلاف ہوتا ہے مگر کوئی شخص علاج کرانا نہیں چھوڑتا مقدمہ لڑانے سے نہیں رکتا پھر کیا مصیبت ہے کہ دینی امور میں اختلاف علماء کو حیلہ...

read more

اہل علم کی بے ادبی کا وبال

اہل علم کی بے ادبی کا وبال مذکورہ بالا سطور سے جب یہ بات بخوبی واضح ہوگئی کہ اہل علم کا آپس میں اختلاف امر ناگزیر ہے پھر اہل علم کی شان میں بے ادبی اور گستاخی کرنا کتنی سخت محرومی کی بات ہے حالانکہ اتباع کا منصب یہ تھا کہ علمائے حق میں سے جس سے عقیدت ہو اور اس کا عالم...

read more