علماء کرام کی توہین سے بچیں
عن عمرو بن عوف المزنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: اتقوا ذلۃ العالم ولا تقطعوہ وانتظروا فیئتہ
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ فرماتے ہیں:۔
یہ حدیث اگرچہ سند کے اعتبار سے ضعیف ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے تمام امت نے اس کو قبول کیا ہے، اس حدیث میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا اہم نکتہ بیان فرمایا ہے۔۔۔۔ حدیث کا ترجمہ یہ ہے کہ حضرت عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عالم کی لغزش سے بچو، اور اس سے قطع تعلق مت کرو، اور اس کے لوٹ آنے کا انتظار کرو۔۔۔۔ (مسندالفردوس للدیلمی)
’’عالم‘‘ سے مراد وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے دین کا علم، قرآن کریم کا علم، حدیث کا علم، فقہ کا علم عطا فرمایا ہو، آپ کو یقین سے یہ معلوم ہے کہ فلاں کام گناہ ہے، اور تم یہ دیکھ رہے ہو کہ ایک عالم اس گناہ کا ارتکاب کر رہا ہے، اور اس غلطی کے اندر مبتلا ہے ۔۔۔۔ پہلا کام تو تم یہ کرو کہ یہ ہرگز مت سوچو کہ جب اتنا بڑا عالم یہ گناہ کا کام کر رہا ہے تو لائو میں بھی کرلوں، بلکہ تم عالم کی اس غلطی اور اس گناہ سے بچو، اور اس کو دیکھ کر تم اس گناہ کے اندر مبتلا نہ ہو جائو۔۔۔۔
