صلح اور جنگ کس سے؟
آج اگر غور کیا جائے تو پورے عالمِ اسلام پر یہی مثال صادق آتی ہے۔۔۔۔ شیطان اور شیطانی تعلیم،… کفر و الحاد،… اللہ اور رسول سے بغاوت،… فحاشی و عیاشی… سے طبیعتیں مانوس ہو رہی ہیں۔۔۔۔ ان کی نفرت دلوں سے نکل چکی ہے۔۔۔۔ اس پر کسی کو غصہ نہیں آتا۔۔۔۔ انسانی رواداری، اخلاق، مروت کا سارا زور کفر و الحاد اور ظلم کی حمایت میں صرف ہوتا ہے۔۔۔۔ نفرت، بغاوت، عداوت کا میدان خود اپنے اعضاء و جوارح کی طرف ہے۔۔۔۔ آپس میں ذرا ذرا سی بات پر جھگڑا لڑائی ہے۔۔۔۔
چھوٹا سا نقطہ اختلاف ہو تو اس کو بڑھا کر پہاڑ بنا دیا جاتا ہے۔۔۔۔ اخبارات و رسائل کی غذا یہی بن کر رہ گئی ہے۔۔۔۔ دونوں طرف سے اپنی پوری توانائی اس طرح صرف کی جاتی ہے کہ گویا جہاد ہو رہا ہے۔۔۔۔ دو متحارب طاقتیں لڑ رہی ہیں اورکوئی خدا کا بندہ اپنی طرف نظر کر کے نہیں دیکھتا کہ ؎۔
ظالم جو جل رہا ہے وہ تیرا ہی گھر نہ ہو
سیاست ممالک سے لے کر خاندانی اور گھریلو معاملات تک سب میں اسی کا مظاہرہ ہے، جہاں دیکھو ’’اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ‘‘ کا سبق پڑھنے والے آپس میں گتھم گتھا ہیں، قرآن حکیم نے جہاں عفو و درگزر اور حلم و بردباری کی تلقین کی تھی، وہاں جنگ ہو رہی ہے اور جس محاذ پر جہاد کی دعوت دی تھی وہ محاذ دشمنوں کی یلغار کے لیے خالی پڑا ہے۔۔۔۔ ’’فَاِلَی اﷲِ الْمُشْتَکٰی وَاِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔۔۔۔‘‘۔
اسمبلیوں… کونسلوں… میونسپل بورڈوں کی نشست،… حکومت کے عہدوں اور ملازمتوں کی دوڑ،… صنعت و تجارت میں مقابلہ اور کمپی ٹیشن،… جائیدادوں اور زمینداروں کی کش مکش… جہاں خالص اپنے حقوق کی جنگ ہے، جس کو چھوڑ بیٹھنا سب کے نزدیک ایثار اور اعلیٰ اخلاق کا ثبوت ہے، وہاں کوئی ایک انچ اپنی جگہ سے سرکنے کو تیار نہیں۔۔۔۔ دین مذہب کے نام پر کام کرنے والوں کی اول تو تعداد ہی کم ہے اور جو ہے وہ عموماً قرآن و سنت کی بنیادی تعلیمات سے اغماض کر کے جزوی اور فروعی مسائل میں الجھ کررہ گئی ہے چھوٹے سے چھوٹا مسئلہ معرکہ جدال بنا ہوا ہے۔۔۔۔ جس کے پیچھے غیبت… جھوٹ… ایذائے مسلم… افترا و بہتان… تمسخر و استہزاء… جیسے متفق علیہ کبیرہ گناہوں کی بھی پرواہ نہیں کی جاتی۔۔۔۔ دین کے نام پر خدا کے گھروں میں جدال و قتال اور لڑائیاں ہیں، نوبت پولیس اور عدالتوں تک پہنچی ہوئی ہے۔۔۔۔
ان دین داروں کو خدا اور رسول پر استہزاء کرنے والوں،… شراب پینے والوں،… سود اور رشوت کھانے والوں سے وہ نفرت نہیں، جوان مسائل میں اختلاف رکھنے والوں سے ہے۔۔۔۔کوئی خدا کا بندہ اس پر نظر نہیں کرتا کہ اس کے مثبت و منفی دونوں پہلوئوں میں کوئی بھی کسی کے نزدیک ایسا نہیں ہے، جس کے لیے مسلمانوں سے جنگ کرنا جائز ہو اور جس کے لیے دوسروں کی غیبت و بہتان، تذلیل و تحقیر روا ہو۔۔۔۔
