راہِ عمل
اس لیے ملت کا درد اور اسلام و ایمان کے اصول و مقاصد پر نظر رکھنے والے حضرات علماء سے میری (یعنی حضرت مفتی اعظم پاکستان رحمہ اللہ تعالیٰ کی) دردمندانہ گزارش یہ ہے کہ مقصد کی اہمیت اور نزاکت کو سامنے رکھ کر سب سے پہلے تو اپنے دلوں میں اس کا عہد کریں کہ اپنی علمی و عملی صلاحیت اور زبان و قلم کے زور کو زیادہ سے زیادہ اس محاذ پر لگائیں، جس کی حفاظت کے لیے قرآن و حدیث آپ کو بلا رہے ہیں۔۔۔۔
۔1۔۔۔علماء کرام اس بات کا عہد بھی کیجیے اور فیصلہ بھی کہ اس کام کے لیے اپنے موجودہ مشاغل میں سے زیادہ سے زیادہ وقت نکالیں گے۔۔۔۔
۔2۔۔۔ دوسرے یہ کہ آپس کے نظریاتی اور اجتہادی اختلاف کو صرف اپنے اپنے حلقہ درس… اور تصنیف و تالیف… اور فتوے تک محدود رکھیں گے۔۔۔۔
عوامی جلسوں…، اخباروں…، اشتہاروں…، باہمی مناظروں… اور جھگڑوں کے ذریعہ ان کو نہ اچھالیں گے۔۔۔۔ ان حلقوں میں بھی پیغمبرانہ اصولِ دعوت و اصلاح کے تابع دل خراش عنوان اور طعن و تشنیع، استہزاء و تمسخر اور صحافیانہ فقرہ بازی سے گریز کریں گے۔۔۔۔
۔3۔۔۔تیسرے یہ کہ معاشرہ میں پھیلی ہوئی بیماریوں کی اصلاح کے لیے دل نشین عنوان اور مشفقانہ لب و لہجہ کے ساتھ کام شروع کر دیں گے۔۔۔۔
۔4۔۔۔چوتھے یہ کہ الحاد و بے دینی اور تحریف قرآن و سنت کے مقابلہ کے لیے پیغمبرانہ اصول دعوت کے تحت حکیمانہ تدبیروں… مشفقانہ و نصیحانہ بیانوں… اور دل نشیں دلائل کے ذریعہ…
’’مُجَادَلَۃٌ بِاللَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ‘‘
کے ساتھ اپنے زورِ بیان اور زورِ قلم کو وقف کر دیں گے۔۔۔۔
