لمحہ فکریہ
ان میں بعض حضرات کا غلو تو یہاں تک بڑھا ہوا ہے کہ اپنے سے مختلف رائے رکھنے والوں کی نماز کو فاسد اور ان کو تارکِ قرآن سمجھ کر اپنے مخصوص مسلک کی اس طرح دعوت دیتے ہیں، جیسے کسی منکر اسلام کو اسلام کی دعوت دی جا رہی ہو اور اسی کو دین کی سب سے بڑی خدمت سمجھے ہوئے ہیں۔۔۔۔
معلوم نہیں کہ یہ حضرات اسلام کی بنیادوں پر چاروں طرف سے حملہ آور طوفانوں سے باخبر نہیں یا جان بوجھ کر اغماض کرتے ہیں۔۔۔۔ اس وقت جب کہ ایک طرف تو کھلے ہوئے کفر،… عیسائیت… اور کمیونزم… نے پورے اسلامی ممالک اور اسلامی حلقوں پر گھیرا ڈالا ہوا ہے اور یہ دونوں کفر طوفانی رفتار کے ساتھ اسلامی ممالک میں پھیل رہے ہیں۔۔۔۔ صرف پاکستان میں ہزاروں کی تعداد ہر سال مرتد ہو جاتی ہے۔۔۔۔ دوسرف طرف کفر نفاق اور الحاد خود اسلام کا نام لینے والوں میں کہیں قادیانیت اور مرزائیت کے لباس میں، کہیں پرویزیت ا ور انکار حدیث کے عنوان سے… کہیں مغرب سے لائی ہوئی اباحیت اور تمام محرمات شرعیہ کو حلال کرنے کے طریقے سے… ہمارے ایمان پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں اور یہ الحاد، کفر و نفاق پہلے کفر سے اس لیے زیادہ خطرناک ہے کہ اسلام اور قرآن کے عنوان کے ساتھ آتا ہے، جن کے دام میں سیدھے سادے جاہل عوام کا تو ذکر ہی کیا ہے۔
ہمارے نو تعلیم یافتہ نوجوان بہ کثرت اس لیے آ جاتے ہیں کہ نئی تعلیم اور نئی معاشرت نے ان کو دینی تعلیم اور اسلامی اصول سے اتنا دور پھینک دیا ہے کہ وہ مادی علوم و فنون کے ماہر کہلانے کے باوجود مذہب اور دین کی ابتدائی معلومات سے بھی محروم کر دئیے گئے ہیں اور کھلے چھپے کفر کی ان ساری اقسام سے بھی اگر کچھ خوش نصیب مسلمان بچ جائیں تو فحاشی… عریانی،… ننگے ناچ،… رقص و سرور کی محفلوں،… اور گھر گھر ریڈیو کے ذریعہ فلمی گانوں اور سینمائوں کی زہریلی فضائوں سے کون ہے جو بچ نکلے؟
اسلام اور قرآن کا نام لینے والے مسلمان آج سارے جرائم اور بداخلاقیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں، ہمارے بازار جھوٹ،… فریب،… سود،… قمار سے بھرے ہوئے ہیں اور ان کے چلانے والے کوئی یہودی نہیں، ہندو نہیں، اسلام کے نام لیوا ہیں۔۔۔۔ ہمارے سرکاری محکمے رشوت،… ظلم و جور،… کام چوری،… بے رحمی… اور سخت دلی کی تربیت گاہیں بنے ہوئے ہیں اور ان کے کارفرما بھی نہ انگریز ہیں نہ ہندو، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لینے والے۔۔۔۔ روزِ آخر پر ایمان کا دعویٰ رکھنے والے ہیں۔۔۔۔ ہمارے عوام دین سے کورے، جہالتوں میں ڈوبے ہوئے، دین کے فرائض و واجبات سے بے گانہ، مشرکانہ رسموں اور کھیل تماشوں کے دلدادہ ہیں۔۔۔۔
ان حالات میں کیا ہم پر یہ واجب نہیں کہ ہم غوروفکر سے کام لیں اور سوچیں کہ اس وقت ہمارے آقا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالبہ اور توقع اہلِ علم سے کیا ہو گی؟
اور اگر محشر میں آپ نے ہم سے سوال کر لیا کہ میرے دین اور شریعت پر اس طرح کے حملے ہو رہے تھے۔۔۔۔ میری امت اس بدحالی میں مبتلا تھی۔۔۔۔ تم وراثتِ نبوت کے دعویدار کہاں تھے؟ تم نے وراثت کا کیا حق ادا کیا؟
کیا ہمارا یہ جواب کافی ہو جائے گا کہ ہم نے رفع یدین کے مسئلے پر ایک کتاب لکھی تھی یا کچھ طلباء کو شرح جامی کی بحث حاصل و محصول خوب سمجھائی تھی یا حدیث میں آنے والے اجتہادی مسائل پر بڑی دل چسپ تقریریں کی تھیں یا صحافیانہ زورِ قلم اور فقرہ بازی کے ذریعے دوسرے علماء و فضلاء کو خوب ذلیل کیا تھا؟
