اَسلاف کا فیضان
فرمایا: اللہ تعالیٰ نے دین کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے۔ اسی لیے ہر دور کے فتنوں کے مطابق چند نفوسِ قدسیہ کھڑے کردیتے ہیں جو خاص اور معجزانہ انداز میں اللہ کے دین کی حفاظت فرماتے ہیں۔ ایک زمانہ میں ہندوستان میں انکارِ حدیث کا فتنہ اُٹھا تھا اور منکرین حدیث کی صف میں بہت سے لوگوں کے نام ہیں جن میں سرسید پہلے درجہ کے منکرین میں سے ہیں اور پرویز، چکڑالوی وغیرہ ان کے شاگرد ہیں۔ اس دور میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانا انور شاہ کشمیری، حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی، مفتی محمد شفیع صاحب، مولانا بدرِ عالم میرٹھی رحمۃ اللہ علیہم کو کھڑا فرمایا۔ ختم نبوت کے مسئلہ پر اللہ تعالیٰ نے بہت سے علماء کے دل میں ڈالا اور ان کے سرخیل حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ تھے جنہوں نے بہت خدمت کی۔ آج کے دور کا فتنہ انکارِ تقلید جو ظاہر ہورہا ہے ائمہ پر زبان درازی، اہلسنّت والجماعت (طائفہ ناجیہ) کے خلاف ہرزہ سرائی اور ان کی نمازوں کو مجروح سمجھنا (کہ ان کی نمازیں ہی نہیں ہیں) یہ بہت زور پکڑ رہا ہے۔ الحمدللہ! اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے بعض ہستیوں کو توفیق عطا فرمائی۔ مولانا محمد امین اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ جو ایک سکول ٹیچر تھے، اللہ پاک نے ان سے خدمت لی۔ علماء کی اس میدان میں تیاریاں نہیں تھیں، یہ بہت حساس موضوع تھا کہ ہم قرآن و حدیث سے باہر نہیں جاتے۔ یہ ایسا عنوان ہے کہ طبیعت اس کی طرف مائل ہوتی ہے اور مسلمان کے ایمان کا تقاضا ہے کہ قرآن و حدیث کے مخالف کون جاسکتا ہے۔ بظاہر دعویٰ یہی ہوتا ہے لیکن حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ اصل مقصود کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع نہیں بلکہ خودرائی کو فروغ دینا ہے۔ ائمہ کے فیضان سے اُمت کو محروم کرنا ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اجماع کو توڑنا ہے۔(مجالس ناصریہ، ص:۵۳)
