برکت کی مثالیں

برکت کی مثالیں

ایک عرب تھا جو بادشاہ ِ ہند کا طبیب تھا، جب جانے لگا تو بادشاہ نے اس کو اپنی طرف سے ہدیے میں سنگترے دیئے، وہ دل میں بڑا غم زدہ ہوا کہ (توقعات) بہت زیادہ تھیں کہ بادشاہ ہے، ہیرے جواہرات دے گا،مال و متاع دے گا اور اس نے مالٹے دیے۔ لیکن صبر والا تھا، خاموشی سے لے کر چل پڑا۔ اب سفر کر رہا تھا، راستے میں ایک ایسے ملک میں پہنچا کہ جہاں بادشاہ کا بیٹا بیمار تھا اور اطباء نے کہا تھا کہ اس کا علاج سڑس استعمال کرنے میں ہے، مالٹا کھانے میں ہے۔ اور اس ملک کی آب و ہوا ایسی تھی کہ مالٹے نہیں ہوتے تھے، اب لوگ مالٹے ڈھونڈ رہے تھے ۔ جب کشتی میں دیکھا کہ مالٹے ہیں تو بادشاہ کو اطلاع پہنچی بادشاہ نے بلا لیا۔ اس نے کہا کہ بھائی برائے مہربانی مالٹے دے دیں، میں اپنے بچے کے لئے اس کو استعمال کروں گا۔ اس نے مالٹے دے دیئے، بچے نے استعمال کئے، اللہ نے صحت دیدی۔ اس بادشاہ نے بوری بھری ہوئی درہم اور دینار کی اس کو انعام کے طور پر دے دی۔ اب یہ بوری بھری ہوئی درہم و دینار کی لے کر گھر گیا تو بڑا خوش تھا۔ جب گھر سے واپس آیا تو شاہ ہند نے پوچھا کہ مالٹوں کا کیا بنا؟ اس نے واقعہ سنایا تو واقعہ سننے کے بعد بادشاہ نے کہا کہ تو نے سستے بیچے۔ تو نے فقط درہم و دینار کی ایک بوری کے بدلے بیچ دیے! اس نے پوچھا کہ وہ کیسے؟ کہا کہ ہاں تجھے کیا پتہ کہ یہ سنگترے کیسے آئے؟ آج رات میرے ساتھ چلنا۔ رات ہوئی تو اس بادشاہ نے بھیس بدلا اور اس بندے کو لے کر شہر کے اندر چلا گیا۔ ایک لوہار کی دکان تھی، اس کے پاس گیا تو اس نے برسنا شروع کردیا: ایک چھٹی مانگی تھی، جلدی آنا چاہئے تھا، دیر سے کیوں آیا؟ اس نے کہا: مجھے معاف کردیں آنے میں دیر ہو گئی۔ اس کے بعد اس نے لوہا کوٹنا شروع کردیا۔ یہ بندہ حیران کہ یہ بادشاہ اور اس لوہار کا لوہا کوٹ رہا ہے، مدان چلا رہا ہے! چنانچہ کئی گھنٹے اس نے لوہے کو کوٹا تو اس لوہار نے اس کو ایک پیسہ دو پیسہ اجرت کے طور پر دیے۔ یہ لے کر نکلا۔ کہنے لگا: دیکھ! میں رزق حلال کے لئے گھنٹوں ہتھوڑا چلا کر پسینا بہاتا ہوں اور میرا رزق یہ چند پیسے ہیں، ان پیسوں سے میں نے سنگترے خرید کر تجھے ہدیہ دیا تھا، یہ اس رزق حلال کی وجہ ہے کہ اللہ نے تیرے مال میں برکت عطا فرمادی۔
۔(۲) جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک بندہ آیا، کہنے لگا حضرت حج کا ارادہ ہے لیکن پیسے نہیں ہیں۔ آپ نے چونی نکالی اور اس کو دے دی، بھئی! ضرورت پڑے تو خرچ کر دینا، اس نے کہا جی بہت اچھا۔ بستی سے باہر نکلا، ایک قافلہ جا رہا تھا ، سلام دعا ہوئی، پوچھا کہاں جا رہے ہو؟ حج کے لئے۔ انہوں نے پوچھا تم کہاں جا رہے؟ اس نے کہا میں نے بھی حج پر جانا ہے۔ وہ کہنے لگے یار ہمارے پاس ایک سواری فالتو ہے، اونٹ فالتو ہے، ایک بندے نے آنا تھا وہ نہیں آ سکا، اگر آنا ہے تو اس پر بیٹھ جائو۔ اس نے کہا بہت اچھا، سواری بھی مل گئی قافلے والے بھی مل گئے۔ وہ سارا راستہ اس کو کھانا بھی کھلاتے رہے، اکرام بھی کرتے رہے، حتیٰ کہ اس نے حج مکمل کر لیا۔ واپس جانے کے لئے پھر جہاں سے ٹرانسپورٹ ملتی تھی، اونٹ ملتے تھے، وہاں پہنچا۔ دیکھا تو ایک اور قافلہ واپسی کے لئے تیار ہے، انہوں نے کہا کہ یار ایک بندہ حج کے لئے آیا تھا فوت ہو گیا اونٹ خالی ہے، اگر جانا ہے تو آ جائو، تو یہ پھر اس اونٹ پر بیٹھ گیا۔ کھانا بھی انہوں نے کھلایا، خدمت بھی کی، اپنی بستی میں اترا۔ پھر حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں آیا اور حال بتانے لگا کہ بڑی سہولت کے ساتھ اور بڑے مزے کے ساتھ حج کیا اور حضرت میرا خرچہ تو کوئی نہیں ہوا۔ جب اس نے کہا کہ حضرت! خرچہ کوئی نہیں ہوا، حضرت نے کہا: اچھا! میری چونی واپس کرو، اللہ والوں کی چونی بھی خرچ نہیں ہوتی، اللہ ایسی برکتیں دے دیتے ہیں۔
۔(۳) ایک بزرگ سے بیٹے نے پوچھا: ابو برکت عملًا کہتے کس کو ہیں؟ انہوں نے کہا: بیٹے یہ گیزر لگا ہوا دیکھ رہے ہو؟ جی دیکھ رہا ہوں، فرمایا: تمہاری عمر ہے، بتیس سال، یہ گیزر تمہاری پیدائش سے پہلے میں نے لگوایا تھا، آج تک سلامت چل رہا ہے اس کو برکت کہتے ہیں اور جب برکت نہیں ہوتی، تو روز پھڈا ہوتا ہے، آج یہ جل گیا کل یہ جل گیا، خرچے ہی پورے نہیں ہوتے۔(ج 33ص179)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more