تفکر در انعامات
ایک عورت نے دعا کے لئے فون کیا کہنے لگی کہ معدے کے السر کی مریضہ ہوں سات سال سے گھر میں سب مہمانوں کا کھانا میں بناتی ہوں مگر سات سال میں کوئی لقمہ میں اپنے منہ میں نہیں ڈال سکی صرف لیکوڈپی کے گزارا کرتی ہوں احساس ہو اللہ یہ بھی تیرا کتنا کرم ہے۔ ایک دوست ہمیں ملنے کے لئے آئے ڈاکٹر تھے ہم نے ان کے لئے بستر لگوایا وہ کہنے لگے کہ جی ہمیں بستر کی ضرورت نہیں ہے میں بیٹھ کر سوئوں گا پوچھا کیا مطلب کہنے لگے مجھے ایک بیماری ہے کہ اگر میں لیٹ کے سوئوں تو منہ کے رستے میرے پیٹ کا سارا کھانا باہر آتا ہے ہمارے کھانے کی لائن میں اللہ تعالیٰ نے ایک والو رکھا ہے فلیپر ہے جو نیچے کی طرف کھلتا ہے جب کھانا نکلنے لگتا ہے تو بند ہو جاتا ہے صحت مند بچہ الٹا لٹک جائے کھانا کھا کے تھوڑی دیر کے لئے تو کھانا باہرنہیں آتا وہ والو روکتا ہے اور جب وہ لیک ہو جاتا ہے تو اندر کا کھانا باہر۔ کہنے لگا کہ میں لیٹ کر سونے کی نعمت سے محروم ہوں اس کو دیکھ کر اس دن احساس ہوا کہ یا اللہ گھنٹوں لیٹ کر جو ہم سوتے ہیں یہ تیری کتنی بڑی نعمت ہے تو اللہ کے انعامات پر غور کریں گے تو اللہ پر قربان ہونے کو دل چاہے گا۔ جس پروردگار نے بن مانگے یہ نعمت عطا فرمائی۔
(ج 30ص183)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

