ایک عاشق ِ قرآن دولہا
ایک حافظ تھے، قاری صاحب تھے، وہ عاشق قرآن تھے۔ ان کی شادی ہوئی، اپنی بیوی کے ساتھ ملاقات کے لئے گئے۔ تعارف ہوا بات چیت ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ہم دو رکعت نفل پڑھ کے اپنی ازدواجی زندگی کی ابتدا کریں گے۔ چنانچہ بیوی نے تو جلدی سے نفل پڑھ لئے۔ انہوں نے دو رکعت کی نیت باندھی، قرآن مجید پڑھنا شروع کیا تو پڑھتے ہی رہے۔ صبح کا وقت ہو گیا۔ سلام پھیرا تو تھوڑی سی دیر اذان ہونے میں باقی تھی۔
اب جب دیکھا تو احساس ہوا کہ اوہو! بیوی بھی انتظار میں تھی۔ بیوی نے کہا: آپ خود بھی تھکے اور مجھے بھی ساری رات جگا کے بٹھا دیا۔ تو اس سے معذرت کی اور کہا کہ قرآن پڑھتے ہوئے میرا اس طرف دھیان ہی نہ گیا۔ میں فجر پڑھ کے آئوں گا پھر آپ کے ساتھ بیٹھ کے بات کروں گا۔
اب یہ فجر پڑھنے گئے تو دوستوں نے پوچھا: بتائو بھئی! مہمان کو کیسے پایا؟ تو یہ آئیں وائیں کرنے لگے تو انہوں نے اندازہ لگا لیا کہ تو کیسا مرد ہے تیری رات اس کے ساتھ گزری اور تجھے اپنی بیوی کا پتہ ہی نہیں؟
تو انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ میں نے تو دو رکعت کی نیت باندھی تھی، قرآن پڑھنے میں مجھے اتنی لذت ملی کہ میرے ذہن سے یہ خیال ہی نکل گیا کہ کوئی میرے انتظار میں بیٹھا ہوا ہے۔ کتنا ان کو مزہ آتا ہو گا۔ اور ہمارے اکابرین قرآن مجید واقعی اسی طرح پڑھتے تھے۔(ج 29ص164)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

