مرکز تجلیات سے حصول ِ فیض
حضرت مرشد عالم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ مجھے جو بھی فیض ملا یہ مرکز تجلیات سے ملا۔ یعنی بیت اللہ شریف سے ملا۔ اور واقعہ یہ سنایا کرتے تھے، خواجہ عبدالمالک صدیقی رحمۃ اللہ علیہ امام العلماء والصلحاء ایک مرتبہ مطاف میں تھے اور جماعت کے چند حضرات بھی ساتھ تھے۔ حضرت طواف کر رہے تھے اور جماعت کے لوگ بھی پیچھے پیچھے طواف میں مصروف تھے۔ اس دوران بیت اللہ شریف کا دروازہ کھولا گیا اور جو کھولنے والا دربان تھا اس نے حضرت کو دیکھ کر کہا آپ اندر جانا چاہتے ہیں تو اے شیخ! آپ چلے جائیں۔ فرماتے ہیں حضرت نے مجھے بھی اشارہ کردیا کہ آئو۔ چنانچہ میں بھی حضرت کے پیچھے ایک اور آدمی جو عربی نظر آتا تھا وہ بھی پیچھے آ گیا۔ فرماتے ہیں اندر داخل ہو کر ہم نے دو رکعت نفل پڑھی دعا مانگی۔ میرے دل میں اس وقت یہ تمنا پیدا ہوئی کہ میں نے حضرت سے کہا حضرت آپ مجھے اس مرکز تجلیات کے اندر بیعت کرلیں۔ فرماتے ہیں: حضرت نے میری درخواست کو قبول کرلیا اور مجھے بیعت کے کلمات بیت اللہ شریف کے اندر پڑھانے شروع کردیئے وہ جو عربی آدمی نظر آتا تھا اس نے بھی درخواست کی حضرت نے فرمایا آپ تو اس دیس کے رہنے والے ہیں اور میں تو کسی اور جگہ کا رہنے والا ہوں ہمارا آپس میں ربط نہیں رہے گا لہٰذا آپ کسی مقامی شیخ سے بیعت ہو جائیں۔ فرماتے ہیں اس کے بعد ہم نے مراقبہ کیا مراقبے میں مجھے یوں لگا کہ وہ جو عربی آدمی تھا وہ مجھے کہہ رہا ہے دیکھ رہے ہو، دیکھ رہے ہو۔ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟ کہ اس کے ہاتھ (مٹھی) میں مٹی ہے اور وہ اس مٹی کو پھینکنا چاہتا ہے۔ جب میں نے کہا کہ دیکھ رہا ہوں تو اس نے مٹی کو پھینکا اور وہ اڑتے اڑتے اڑتے دریائوں سے کھیتوں سے سمندروں سے اوپر جا کر ایک بڑی خوبصورت جگہ پہ گرتی ہے۔
فرماتے ہیں اتنی دیر مراقبہ تھا اتنی دیر کے بعد حضرت نے دعا کروادی۔ جب بیت اللہ شریف کی سیڑھیاں نیچے اترنے لگے تو سیڑھیوں کے درمیان میں حضرت نے مجھے بتایا کہ ابدال نے تمہیں کیا کہا؟ حضرت فرماتے ہیں مجھے تو اندازہ نہیں تھا میں نے سمجھا کہ مراقبے میں مجھے اونگھ آ گئی اور اونگھ میں میں نے یہ کوئی خواب دیکھا ہے لیکن جب حضرت نے پوچھا تو میں نے ساری تفصیل بتادی۔ حضرت فرماتے ہیں وہ آدمی جو بیعت ہونا چاہتا تھا وہ ابدال تھا اور اس کو میں نے جو بیعت سے انکار کردیا تو اب میرا فیض تمہارے ذریعے سے پوری دنیا میں جائے گا۔ جہاں تک تم نے مٹی کو جاتے دیکھا وہاں تک اللہ تعالیٰ تمہیں پہنچائیں گے۔
حضرت فرماتے ہیں اس وقت مجھے تو ان باتوں کی سمجھ ہی نہیں تھی۔ میں نے کہا پتہ نہیں یہ کیسے ہو گا؟ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بار بار حرم شریف آنے کا راستہ کھولا پھر یہاں حج و عمرے کے موقع پر لوگ آتے بیعت ہو جاتے اور میں سمجھتا کہ خواب پورا ہو گیا۔ یہ فلاں ملک سے آ کے بیعت ہو گیا، یہ فلاں ملک سے آکے بیعت ہو گیا، مگر ۳۵ سال کے بعد مجھے ریونین میں دعوت دی گئی، جب رمضان المبارک میں وہاں پہنچا تو میں نے ہوبہو وہی منظر دیکھا جو ۳۵ سال پہلے میں نے بیت اللہ شریف کے اندر دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے دین کی دعوت کے لئے مجھے وہاں تک پہنچا دیا۔ ہمارے حضرت فرمایا کرتے تھے کہ مجھے مرکز تجلیات سے فیض ملا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو مرشد اعظم بنا دیا۔ آج ہم بھی اسی جگہ آئے ہوئے ہیں تو کیا ہم اپنا دل دھوکے نہیں جا سکتے۔ یعنی بات ہے کہ دھوکے جا سکتے ہیں اس کے لئے تھوڑی اور کوشش کرلیں اللہ رب العزت کو منالیں۔ مشکل تو نہیں ہے مگر ہمت کوشش کرنی ہوتی ہے۔(ج 29ص90)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

