تھوڑے وقت میں زیادہ کام
ایک عام دستور کی بات ہے کہ آدمی کو ادھار کی چیز ملے تو وہ تھوڑی دیر میں زیادہ کام نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ نے صبح اٹھ کر دفترجانا ہے، بیوی نے کپڑے استری کرنے شروع کئے اوراستری خراب ہو گئی۔ اب کیا کیا جائے نئی تو بازار سے اتنی جلدی آنہیں سکتی، وہ جو ساتھ آپ کے بھائی کا گھر ہے، ان سے بچے کے ذریعے سے منگوائے گی۔ اگر وہ استری دے دیں گے تو وہ آپ کے ہی کپڑے استری نہیں کرے گی بلکہ ساتھ اپنے بھی کر لے گی اور بچوں کے بھی کر لے گی۔ ایک دن کے نہیں دو چار دنوں کے کر لے گی۔ کہے گی: ہو سکتا ہے کہ آنے میں دیر لگ جائے، بار بار تو چیز نہیں مانگی جاتی۔ معلوم ہوا کہ ادھار کی چیز سے تھوڑے وقت میں زیادہ کام نکالا جاتا ہے۔ عقل مند وہ ہے جو اس ادھار کے مال سے مختصر زندگی میں زیادہ اعمال نکالنے کی کوشش کرے اور ہمارے اکابر یہی کیا کرتے تھے دن رات اپنے جسم کو تھکا دیتے تھے، نیکی کر کرکے تھکتے تھے اور تھک تھک کر پھر نیکی کرتے تھے۔
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

