کفر کا اعتراف ِ حقیقت
عاجزکچھ دنوں پہلے واشنگٹن میں تھا تو وہاں پر ایک کمیٹی بنی ہوئی تھی (انٹرفیتھ کونسل) اس کا نام تھا۔ کسی نے آکے بتایا کہ جی اس میں ہندو بھی ہیں، یہودی بھی ہیں، عیسائی بھی ہیں، فلاں بھی ہیں مگر مسلمان کوئی بھی نہیں۔ چنانچہ وہ لوگ جب اکٹھے مل بیٹھتے ہیں نا تو ظاہر تو کرتے ہیں کہ ہم نے مختلف ادیان کو سمجھنے کے لئے یہ بنائی ہے ، مگر نزلہ سارا اسی پر گرتا ہے جو موجود نہیں ہوتا تو وہ اسلام پر اعتراض کرتے ہیں۔ تو اسلام کے خلاف بہت ہی زیادہ کام کر رہے ہیں لہٰذاکسی نہ کسی کو وہاں جانا چاہئے۔ اب علاقے کے علماء سے مشورہ کیا گیا کہ بھئی وہاں جانے کے لئے تو ایسا بندہ ہو کہ جس کو اگر کچھ دین کا علم ہے تو ساتھ اس کو موجودہ علوم بھی حاصل ہوں تاکہ ان سے بات بھی کرسکے۔ انگریزی میں بات کر سکے سائینٹفک بیک گرائونڈ ہو وہ سائنسی سوالات کریں تو وہ ان کو نمٹا سکے۔ تواللہ تعالیٰ کی شان کہ انہوں نے اس عاجزکو اس کام کے لئے متعین کردیا۔ انکار تو کیا، لیکن جب انہوں نے کہا کہ ہم سب علماء مل کے کہہ رہے ہیں کہ آپ جائیں تو اس عاجز نے ہمت کرلی۔ لو جی ہم نے بھی وہاں جانا شروع کردیا۔
پہلی بات تو یہ کہ جب میں وہاں جاتا تھا تو یہی عمامہ، یہی جبہ، یہی عصا، بالکل اسی حالت میں جاتا تھا۔ جب پہلے دن جا کے ان کو بتایا کہ جی میں مسلمان ہوں ہم آئے ہیں کہ اگر آپ کو اس کے بارے میں کوئی سوال پوچھنا ہو تو پوچھ لیا کریں، مجھے پتہ ہو گا تو میں جواب دے دوں گا اور اگر مجھے نہیں پتہ ہو گا تو میں اپنے بڑوں سے پوچھ کے آپ کو جواب دے دوں گا ، مقصد تو آپ کو Satisfy (مطمئن) کرنا ہے۔ تو وہ تھوڑا محتاط ہو گئے۔ چنانچہ اگلی لسٹ میں اسلام کا نام سب سے پہلے لکھنا شروع کردیا۔ اب یہ ایک روٹین بن گئی ، ہم جاتے رہتے۔ میں نے دیکھا کہ جو یہودی رباعی تھا، بڑے غور سے مجھے آتے جاتے دیکھتا تھا۔ شاید دل میں سوچتا ہو، یہ میرا گمان ہے کہ بھئی عصا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سنت تھی آج، ہمیں اس بندے کے ہاتھ میں وہ سنت نظر آ رہی ہے۔ اور ایک دن اس کی تصدیق ہو گئی کہ جب میں آ کے اس کے پاس بیٹھا کرسی پے تو کہنے لگا:۔
’’ آپ ہمیشہ ایک باوقار شکل میں آتے ہیں‘‘
یہ اس کے الفاظ تھے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ سنت نے اس کے دل کے اوپر بھی ایک رعب قائم کردیا۔ اللہ کی شان۔ ایک دن کی بات ہے کہ سیکرٹری نے کہا کہ جی اچھا اگلی میٹنگ کب ہو اور اس کا کیا ایجنڈا ہو؟ تو میں نے انہیں کہا کہ اگلی میٹنگ کا ایجنڈا یہ ہونا چاہئے کہ ہر دین والا اپنے ہاں جو اللہ کا کلام ہے اس کو اگلی میٹنگ میں پڑھے اور تھوڑا سمجھائے تاکہ ہمیں سب آسمانی کتابوں کو سننے سمجھنے کا موقعہ مل جائے۔ تو (اللہ کے کلام) کو پڑھے اور ہمیں بتائے۔ بس اتنی تھوڑی سی بات کرنے کی ضرورت تھی۔ وہ سیکرٹری تو بہت خوش ہو گیا۔ کہنے لگا: ہاں اگلی میٹنگ کا ایجنڈا یہی ہے، ہر دین والا اپنی جو کتاب ہے ہے اس کو پڑھے گا اور اس کے بارے میں سمجھائے گا۔
اگلی میٹنگ میں گئے تو سیکرٹری نے سب سے پہلے نام ہی میرا لیا۔ کیونکہ انہوں نے ہی (تجویز) دی تھی۔ لہٰذا اسٹارٹ یہی کریں۔ لو جی ہم نے قرآن مجید میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی اور اس کے بارے میں کچھ سمری ان کو بتا دی کہ کیوں سورۃ فاتحہ تلاوت کی؟ حدیث پاک میں آتا ہے: جو تمام آسمانی کتابوں میں تھا سب کچھ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نازل فرما دیا اور جو پورے قرآن مجید میں تھا اس کو سورۃ بقرہ میں نازل فرمادیا اور جو کچھ سورۃ بقرہ میں تھا اس کو سورۃ فاتحہ میں نازل فرمادیا تو سورۃ فاتحہ یہ سمری ہے پورے قرآن مجید کی لہٰذا ہم نے اس کی تلاوت کی اور تلاوت کرکے اس کے بارے میں بتا دیا چلیں بات مکمل ہو گئی۔ اب آگے وہ بیٹھے ہوئے تھے پادری صاحب۔ ان کی باری آئی تو انہوں نے اپنی بائبل کھولی اور پہاڑی کا خاص وعظ ہے یہودی بڑے مزے سے پڑھتے ہیں اس وعظ کو، تو انہوں نے وہ پہاڑی کا وعظ پڑھنا شروع کردیا۔ جب پڑھا تو میں نے کہا کہ جی میرا اس پر (سوال) ہے سیکرٹری نے پوچھا کیا؟ میں نے کہا کہ ایجنڈا میں یہ بات پاس ہوئی تھی کہ ہر دین والا جو کچھ ان کے پاس اللہ کا کلام ہے وہ پڑھ کے سنائے گا۔ یہ تو انگریزی پڑھ رہے ہیں، تو کیا بائبل انگریزی میں آئی تھی؟ اب جب میں نے یہ پوائنٹ کھولا تو ان کو فیل ہو گیا کہ اوہو ہم تو ٹریپ ہو گئے۔ اب وہ عیسائی پریشان۔ کسی کے پاس کوئی جواب نہیں، اس لئے کہ وہ تو عبرانی زبان میں تھی۔ اب تو رات والا بھی پریشان ، وہ بھی پریشان، آدھا منٹ تقریباً خاموشی رہی۔ آدھے منٹ کے بعد وہ جو یہودی رباعی تھا، وہ آگے بڑھا اورکہنے لگا کہ مسٹر احمد (مجھے احمد کہتے تھے) میں اس بات کو آج سب کے سامنے کہہ رہا ہوں کہ اس وقت پوری دنیا کے مذاہب میں سے صرف مسلمان ایسے ہیں جن کے پاس (اللہ کا کلام) اصلی حالت میں موجود ہے۔ ہمارے پاس تو فقط ٹرانسلیشن موجود ہے۔ اتنی خوش ہوئی، اس دن اتنی خوشی ہوئی کہ اللہ! پوری دنیا کے لوگ بالآخر اس بات کو ماننے پے مجبور ہو گئے کہ تیرا ایک قرآن ہی محفوظ ہے اس کے سوا کوئی اورکتاب محفوظ نہیں ہے۔ میں نے کہا:۔
۔’’ ہم نے ہی اس قرآن مجید کو نازل کیا اور اس کی حفاظت کے بھی ہم ہی ذمہ دار ہیں۔‘‘(ج 27ص97)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

