اﷲ والوں کا ظرف
اللہ والے لوگ جو ہوتے ہیں وہ کسی پر بدگمان ہی نہیں ہوتے۔ عجیب بات ہے کہ کبائر کے مرتکب بھی ان کے سامنے آتے ہیں لیکن وہ ان سے بھی بدگمان نہیں ہوتے۔ اللہ سے محبت رکھتے ہیں اور اس لئے ان کی ہدایت کا سبب بن جاتے ہیں۔ اور اگر مشائخ ان عیبوں کو دیکھ کر دھتکارنے والے ہوتے تو پھر میں اور آپ جیسے ان اللہ والوں کے قدموںمیں بیٹھنے کے قابل ہی نہ ہوتے، جاتے ہی جوتے پڑتے۔
ہم نے حضرت بابوجی عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھا کئی دفعہ ان کی ایسی کیفیت ہوتی تھی کہ جو بندہ جاتا اسی کے عیب اس کے سامنے کھولتے تھے۔ اس سے توبہ کرو! اس سے توبہ کرو! حالت یہ تھی کہ ڈر کے مارے لوگ جاتے نہیں تھے۔ مگر ان کا ایک مقام تھا۔ ایک دفعہ ڈی سی آ گیا۔ انہوں نے ڈی سی کو سب کے سامنے کہا: جھوٹ مت بولا کرو۔ وہ کہنے لگا: میں تو نہیں بولتا۔ آپ نے اس کی طرف ایسی شیر کی نگاہ دیکھی اور فرمایا کہ دیکھو! میں اپنے قلب کی آنکھ سے تمہارے قلب کو ایسے دیکھ رہا ہوں جیسے آنکھوں سے میں تمہارے چہرے کو دیکھتا ہوں۔ میرے سامنے جھوٹ بولتے ہو، مان گیا کہ جی ہاں جھوٹ بولتا ہوں۔ یہ تو اللہ والوں کا ظرف ہوتا ہے کہ باوجود اس کے کہ ان کے دلوں میں کیا کیا باتیں کھل رہی ہوتی ہیں مگر پھر بھی پردہ پوشی کرتے ہیں۔ (ج ۲۶ ص ۲۴۲)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

