دھوبی کے پاس میلا کپڑا ہی آتا ہے
حضرت لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک نوجوان آتا تھا جس پر مختلف الزامات تھے۔ لوگوں نے آکر کہا کہ حضرت! آپ اس کو اپنے پاس آنے سے منع فرمادیں، بدنامی ہو رہی ہے۔ حضرت کی آنکھوں سے آنسو آگئے اور فرمایا کہ دیکھو! میری مثال تو دھوبی کی سی ہے جو کپڑے کو دھوتا ہے اور دھوبی کے پاس تو گندے کپڑے ہی تو آیا کرتے ہیں، صاف ہو گا تو وہ دھوبی کے ہاتھ میں آئے گا ہی کیوں؟ بھئی اگر یہ سارے ہی اچھے ہوں تو پھر گھر میں بیٹھ کر آرام سے وقت گزاریں۔ یہ تو آتے ہی اس لئے ہیں کہ محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں دھلنے کی ضرورت ہے، کسی واشنگ مشین میں رہ کر اپنے دل کے داغ دور کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ گھروں کو چھوڑنا کوئی آسان کام ہے؟ بیوی بچوں کو چھوڑنا، اپنی مصروفیات کو ترک کرنا آج کہاں آسان ہے؟ ملک سے غیر ملک سے جب کوئی چل کر آتا ہے تو اس کے دل میں کوئی احساس ِ ندامت ضرور ہوا کرتا ہے۔ اس لئے اس پرنہ روئیں جس نے گناہ کیا، اپنے اوپر روئیں کہ میرا دل اتنا بد گمانی کرنے والاہے ہی کیوں؟(ج 26ص237)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

