حج مقبول

حج مقبول

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی مہاجر مدنی رحمہ اللہ لکھتے ہیں
ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں حج کیلئے ایک جماعت کے ساتھ جارہا تھا کوفہ میں اپنی ضروریات کی خریداری کیلئے بازار گیا تو دیکھا ایک غریب عورت کو دیکھا جو ایک مردار خچر سے گوشت کے ٹکڑے کاٹ رہی تھی۔ میں چپکے سے اس کے پیچھے ہولیا۔ وہ عورت ایک بڑے مکان میں پہنچی۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے پوچھا گیا کہ کون؟ میں نے کہا کھولو۔ دروازہ کھولا گیا تو گھر میں چار لڑکیاں تھیں جن کے چہرہ سے بدحالی اور مصیبت کے آثار ظاہر تھے۔ میں نے دیکھا کہ گھر اندر سے بالکل برباد اور خالی ہے۔ اس عورت نے روتے ہوئے لڑکیوں کو آواز دی کہ لو اس گوشت کو پکالو اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ لڑکیاں گوشت کاٹ کر آگ پر بھوننے لگیں۔ میں نے آواز دی کہ اللہ کی بندی اللہ کے واسطے اس کو نہ کھائو کہ مجوسیوں کے ایک فرقہ کے سوا مردار کا کھانا کسی مذہب میں جائز نہیں۔ وہ عورت کہنے لگی ہم خاندان نبوت کے شریف ہیں ان لڑکیوں کا باپ شریف آدمی تھا۔ اس کے انتقال کے بعد ترکہ ختم ہوگیا ہمیں معلوم ہے کہ مردار کھانا جائز نہیں لیکن ہم مجبور ہیں کہ ہمارا چار دن سے فاقہ ہے۔
ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ سن کر مجھے رونا آگیا۔ میں واپس ہوا اور جو سامان میرے پاس تھا وہ لیا اور نقد چھ سو درھم تھے وہ بھی لئے۔ بازارسے آٹا‘ کپڑا وغیرہ خرید کر بقیہ درھم آٹے میں چھپا کر بڑھیا کو دے آیا۔ میرے اس عمل پر بڑھیا اور اس کی بچیوں نے مجھے خوب دعائیں دیں۔ میں واپس کوفہ میں رہا یہاں تک کہ حج کا زمانہ گزر گیا۔ لوگ حج کرکے لوٹ آئے تو میں ان کے استقبال کیلئے گیا۔ جب حجاج کے قافلہ پر میری نظر پڑی تو مجھے حج سے محرومی کا افسوس ہوا اور میرے آنسو بہہ پڑے جب میں حجاج سے ملا تو میں نے کہا اللہ تعالیٰ تمہارا حج قبول کرے۔ ان میں ایک نے کہا یہ دعا کیسی؟ کیا تو ہمارے ساتھ عرفات کے میدان میں نہیں تھا؟ تو نے ہمارے ساتھ رمی جمرات (شیطان کو کنکریاں مارنا) اور طواف وغیرہ نہیں کیا؟ اتنے میں ایک اور قافلہ آیا تو انہوں نے بھی اسی طرح کی باتیں کیں۔ ایک نے کہا جب ہم قبر اطہر کی زیارت کرے باب جبرائیل سے باہر آرہے تھے اس وقت رش کی وجہ سے تم نے یہ تھیلی میرے پاس امانت رکھوائی تھی جسکی مہر پر لکھا ہوا ہے۔ ’’جو ہم سے معاملہ کرتا ہے نفع کماتا ہے‘‘۔ یہ تمہاری تھیلی واپس ہے۔
ربیع کہتے ہیں کہ میں اس تھیلی کو لیکر گھر واپس آیا نماز عشاء کے بعد سویا تو خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہوئی میں نے آپکو سلام کیا اور ہاتھ چومے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ربیع! ہم اس پر کتنے گواہ قائم کریں کہ تو نے حج کیا !سن بات یہ ہے کہ جب تو نے اس عورت پر صدقہ کیا جو میری اولاد تھی تو میں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تجھے اس کا نعم البدل عطا فرمائے تو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ تیری صورت بنا کراس کو حکم فرمایا کہ وہ قیامت تک ہر سال تیری طرف سے حج کیا کرے اور دنیا میں تجھے یہ عوض دیا کہ چھ سو درہم کے بدلہ چھ سو دینار (اشرفیاں) دیدئیے۔
پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو ہم سے معاملہ کرتا ہے نفع کماتا ہے۔ بیداری پرجب تھیلی دیکھی تو اس میں چھ سو اشرفیاں تھیں۔ (فضائل حج)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more