یہ ہے سخاوت
حضرت مولانا مفتی عبدالقادر صاحب رحمہ اللہ اپنے خطبات میں فرماتے ہیں۔
کہ حضرت شبلی رحمہ اللہ تعالیٰ بیٹھے ہوئے اپنے آپ سے کہہ رہے تھے کہ تو بڑا بخیل ہے ، دیکھئے کیسے اپنا علاج کررہے ہیں ، اپنے نفس کو لتاڑ رہے ہیں ، اپنے نفس کوکہتے ہیں کہ توبڑا بخیل ہے تو نفس نے جواب دیا کہ میں بخیل نہیں ہوں بلکہ میں توبڑا سخی ہوں۔
انہوں نے اسے کہاکہ اچھا تمہارا امتحان ہے وہ یہ کہ جب کل صبح ہو جائے تو تمہارے پاس جتنے پیسے ہوں جو غریب آدمی پہلے ملے تم اس کو خوش دلی سے دے دینا ، اگر دل کی خوشی سے تم نے دے دیئے تو تم واقعی سخی ہو، اگر نہیں دیئے تو تم بخیل ہو ، اپنے ساتھ یہ طے کر لیا جب صبح ہوئی تو اپنے بٹوے کی تلاشی لی دیکھا کہ پچاس دینار سونے کے تھے ، یہ معمولی رقم نہ تھی ۔
لیکن اب تو طے ہو چکا تھا کہ اگرتم نے خوش دلی سے دیا تو تم سخی ہو ، نہ دیا تو تم بخیل ہو ، ماشاء اللہ اٹھے وہ دینار ہاتھ میںلئے ، باہر نکلے کوئی غریب آدمی ملے تو اس کو دوں ، آگے گئے کیا دیکھا کہ ایک حجام کی دکان پر ایک نابینا حافظ صاحب حجامت بنوا رہے ہیں کپڑے میلے ہیں ، سوچا کہ یہ مستحق ہیں ان کو دینے چاہئیں ، قریب گئے کہاحافظ صاحب! آپ کو پچاس دینار ہدیہ پیش کر رہا ہوں ۔
انہوں نے کہاکہ اللہ آپ کو جزائے خیر دے ، یہ حجام میری حجامت بنا رہاہے میرے پاس اس کو دینے کے لئے پیسے نہیں ہیں تم اس کوپیسے دے دو اب یہ سوچ میں پڑ گئے کہ حجام کے تو ایک دو روپے بنتے ہیں یہ توپچاس دینار ہیں اورایک دینارکئی ہزار روپے کا ہے یہ حجام کو کیسے دے دوں تو خیال کیا کہ حافظ صاحب نے شاید میری بات سمجھی نہیں دوبارہ کہا کہ حافظ صاحب میں آپ کو پچاس دینار دے رہا ہوں کیا سارے حجام کودے دوں ؟ فرمایا کہ ہاں دے دو ، اسی لئے تو کہتے ہیں کہ تم بخیل ہو ، اللہ نے ان کی زبان سے یہ بات نکلوادی ۔
بس عجیب چوٹ پڑی کہ یہ حافظ صاحب تو مجھ سے زیادہ سخی ہیں میں توسوچ رہا ہوں کہ اسے دوں یا نہ دوں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ دے دو ، بس پیسے نکالے اور حجام کو دے دیئے کہ لو یہ تمہاری مزدوری ہے ، ایک حجامت کرنے سے اس کو پچاس دینار مل گئے۔
لیکن حجام کی بات بھی سنئے ، وہ حجام بھی اللہ والا تھا ، شرعی حجامت بناتا ہوگا ، ناجائز نہیں بناتاہوگا ، اس نے کہاکہ جب حافظ صاحب میری دکان پر آئے اور میں نے دیکھا کہ یہ غریب آدمی ہیں میں نے ارادہ کیا کہ میں اللہ کے لئے حجامت بنائوں گا ، اب میں ان کو ٹھیکروں کی وجہ سے اپنی نیت خراب نہیں کرنا چاہتا ، میں نے کہا کہ لو بھائی یہ حجام بھی مجھ سے بڑھ گیا ، پس اللہ والے سخی ہوتے ہیں ، اللہ نے آپ کو پیسہ دیا ہے، تو آپ بھی اللہ کی راہ میں دو بھائی ، جتنا ہوسکے زکوٰۃ و خیرات دو۔
یاد رکھو! اللہ کی راہ میں دینے سے کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ حدیث پاک میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جو تم اللہ کی راہ میں صدقہ دیتے ہو وہ کم نہیں ہوتا‘‘ مثلاً دس ہزار تمہارے پاس تھے ، ایک ہزار تم نے اللہ کی راہ میں دے دیا ، دیکھنے میں تو ایک ہزار کم ہوگیا ہے لیکن حقیقت میں کم نہیں ہوا، اس نو ہزار میں وہ کام چل جائے گا جو دس ہزار میں بھی نہ چلتا ، اللہ والے سخی ہوتے ہیں تم بھی اللہ والے بن جائو ، سخی بن جائو اللہ نے پیسہ دیا ہے زکوٰۃ دو ، خیراتیں دو ، غریبوں کی امداد کرو۔
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

