عبرت کی جا ہے
ایک صاحب نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شادی کی اور کچھ عرصہ بعد کسی بیرون ملک ملازمت کیلئے چلے گئے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ سال بعد خود گھر آجاتے یا بعض اوقات بیوی بچوں کو اپنے پاس بلوا لیتے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے ساتھ دین کی سمجھ بھی دی تھی۔ ان کی کوشش ہوتی کہ بیرون ممالک میں بھی ایسی جگہ رہائش رکھی جائے جو مسجد کے قریب ہو‘ ایک مرتبہ دوران رہائش مسجد قریب نہ ہونے کی وجہ سے پریشان تھے اور مقامی حکومت کی طرف سے مسجد بنانے کی اجازت بھی نہ تھی انہوں نے ایک پرانا کنٹینر لیکر اسی میں صفیں بچھالیں اور دیگر مقامی مسلمانوں کے ساتھ باجماعت نماز کا اہتمام کرلیا۔ بعد میں اسی کنٹینر کی جگہ مسجد بن گئی اکثر حج و عمرہ پر بھی جاتے اور بعض اوقات بچوں کو بھی حج پر ساتھ لے جاتے۔
تقریباً ساٹھ برس کے بعد ریٹائرڈ ہوکر مستقل طور پر پاکستان آگئے ‘ اور اپنے ہمراہ خوب مال و دولت لے آئے ‘ تمام بچے والدہ کی نگرانی میں دنیا کی اعلیٰ تعلیم سے تو آراستہ تھے لیکن ان کی دینی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے بچوں نے اپنے والد کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ ان کی زندگی کا یہ بھیانک پہلو ہم میں سے ہر شخص کیلئے تازیانہ عبرت ہے اور خاص طور پر ان لوگوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے جو زیادہ کمانے کے لالچ میں اپنی بیوی اور بچوں کو اکیلا چھوڑ کر بیرون ممالک چلے جاتے ہیں۔ بچوں کی دینی تعلیم و تربیت جوکہ والدین کے ذمہ شرعی و اخلاقی فریضہ ہے جب اس میں کوتاہی کی جاتی ہے اور اس طرف توجہ نہیں دی جاتی تو پھر اللہ تعالیٰ اسی اولاد کو والدین کیلئے کس طرح وبال جان بنا دیتے ہیں اس کی جھلک صاحب واقعہ کی داستان میں عیاں ہے۔
ساٹھ برس کی مسلسل محنت سے خوب دولت کما کر واپس آئے ۔دوران ملازمت بھی کئی پلاٹ اور مکانات خریدے جس کوٹھی میں رہائش تھی وہ پہلے ہی اپنی بیوی کے نام کردی۔
بیوی بچے وقتاً فوقتاً اپنی ضروریات کیلئے پیسے مانگتے اور یہ ہزاروں روپے دیدیتے۔بچوں کو مختلف کاروبار بھی شروع کرادئیے لیکن ناکامی ہوئی۔ بیوی بچوں کو پیسے دے دیکر جب یہ تھک گئے اور مزید رقم دینے سے انکار کیا تو ایک دن بیوی نے اپنے ایک لڑکے کے ساتھ مل کر پروگرام بنایا اور موقع ملتے ہی خاوند کو رسیوں سے باندھا اور منہ پر پٹی‘ زبردستی جیب سے خزانہ کی چابیاں نکال لیں اور سیف کھول کر تمام سونا ودیگر نقدی اور ضروری کاغذات اٹھا لئے اور انہیں فارغ کرکے گھر سے نکال دیا‘ چونکہ گھر بیوی کے نام تھا۔ اس لئے یہ خاموشی سے اپنی ایک شادی شدہ بیٹی کے پاس چلے گئے۔ بیٹی نے بھی اپنے پاس اسلئے رہائش دی کہ والد کے پاس جو کچھ مال بچا ہوا ہے اسے ہتھیا لیا جائے۔ اپنے گھر کی ضروریات بتا بتا کر لاکھوں روپے خرچ کرادئیے۔ دوسری بیٹی نے یہ حال دیکھا تو وہ بھی خاموش نہ رہ سکی اس نے مطالبہ کرکے والد کواپنے پاس ٹھہرالیا اور ہزاروں لاکھوں روپے گھر کی ضروریات کیلئے خرچ کرا ڈالے۔
دوسرے بیٹے نے جب دیکھا کہ والد صاحب کو لوٹنے میں میری بہنیں مجھ سے سبقت لئے جارہی ہیں تو اس نے والد کو سمجھایا کہ آپ میرے پاس تشریف لائیں اور مجھے خدمت کا موقع دیں‘ شادی شدہ بیٹیوں کے گھر آپ کا رہنا مناسب نہیں۔ بیٹے کی بات مان کر وہ اس کے پاس رہائش پذیر ہوگئے۔اس بیٹے کی رہائش علیحدہ تھی پہلے سے ایک مکان اس کی ملکیت کر چکے تھے۔ اس بیٹے نے بھی ہزاروں روپے اے سی گیزر وغیرہ کی مد میں خرچ کرادئیے۔
یوں والد کے پاس جو جمع پونجی تھی وہ بیٹیوں اور بیٹے نے خرچ کرادی۔
اس عرصہ میں وہ بیٹا جس نے ماں کی مدد سے والد کو باندھا تھا وہ ایسی لاعلاج بیماری میں مبتلا ہوا کہ دنیا بھر کے ڈاکٹر اس کے علاج سے عاجز آگئے۔ اس کے دماغ میں کوئی ایسا درد اٹھا کہ دیکھنے والے تڑپ جاتے۔ بد نصیب نوجوان بیٹے کی حالت دیکھ کر والد نے اس کی زیادتیوں کو فراموش کردیا اور اس کے علاج پر لاکھوں روپے خرچ کئے لیکن تدبیر پر تقدیر ہی غالب رہی اور اسی کربناک حالت میں اس بیٹے کا عین جوانی ہی میں انتقال ہوگیا۔
کچھ عرصہ بعد اہلیہ کو فالج ہوا تو اس کے علاج پر بھی بے دریغ روپے بہائے کہ اس نے میرے ساتھ جو کچھ کیا لیکن پھر بھی میری رفیقہ حیات ہے۔ جب اہلیہ کی حالت کچھ درست ہوئی تو ان کے دل میں شدید تقاضہ ہوا کہ عمرہ کیلئے جانا چاہئے۔
زندگی کے یہ نشیب و فراز دیکھ کر ویسے بھی دل دنیا سے اچاٹ ہوچکا تھا عمرہ پر جانے سے پہلے دوست احباب کو دعا کیلئے کہا اور خواہش ظاہر کی کہ اب جی چاہتا ہے کہ وہیں میرا انتقال ہوجائے اور اللہ تعالیٰ مجھے وہاں کی تدفین نصیب فرما دیں۔ بالآخر عمرہ پر گئے تو کچھ دنوں کے بعد وہیں ان کا انتقال ہوگیا اور جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔
ماشاء اللہ خود دیندار تھے اس لئے آخری سفر نہ صرف بخیر و عافیت ہوا بلکہ قابل رشک ہوا لیکن اولاد کی دینی تربیت نہ کرنے کی وجہ سے اولاد نے والد کے ساتھ جو سلوک کیا یہ ہمارے لئے درس عبرت ہے۔
شریعت کی ہدایات میں سے ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ بندہ جہاں خود رہے ‘بیوی بچوں کو بھی اپنے ہمراہ رکھے۔ عورت چاہے جتنی دیندار اور ہوشیار ہو‘ اکیلی اولاد کی تربیت نہیں کرسکتی۔ بچے جس طرح ماں کی ممتا اور شفقت کے محتاج ہوتے ہیں اسی طرح وہ والد کی طرف سے نگرانی کے بھی شدید محتاج ہوتے ہیں۔
اس لئے بزرگوں کی طرف سے بھی تاکید ہے کہ آدمی جہاں خود رہے اہل و عیال کو بھی اپنے ساتھ رکھے کہ کہیں فانی دنیا کمانے میں اصل پونجی جو اولاد ہے وہ نہ ہاتھ سے نکل جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اولاد کی دینی تربیت کرنے اور اولاد کو والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بننے کی توفیق سے نوازیں آمین۔
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

