خلیفہ ہارون رشید
ایک دن امیر المؤمنین ہارون الرشید رحمہ اللہ دور سے اپنے فرزندوں محمد امین اور مامون الرشید کی طرف دیکھ رہا تھا۔ دونوں بھائی اپنے مکتب میں امام کسائی سے سبق پڑھ رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد امام کسائی کسی ضرورت سے اٹھے اور باہر جانے لگے، امین اور مامون نے لپک کر استاد کے جوتے اٹھائے اور ان کے قریب رکھ دئیے۔ یہ دیکھ کر ہارون کو تعجب ہوا، ایک خادم سے پوچھا بتا وہ کون شخص ہے جس کے خدمت گار دنیا کے بڑے بڑے آدمی ہیں؟ اس نے کہا آپ۔ ہارون نے کہا نہیں، کسائی ہے، جس کے علم و فضل کی وجہ سے محمد امین و مامون اس کی خدمت کرتے ہیں، جب کسائی نے یہ واقعہ سنا تو کہا امیر المؤمنین اگر آپ اپنے دونوں فرزندوں سمیت میری خدمت کرتے تب بھی تھوڑی تھی کیونکہ فضل و کمال کی زندگی اصل زندگی ہوتی ہے۔ اور دولت و اقبال ڈھلتی پھرتی چھائونی ہے، اس لئے اعتبار کے قابل چیز فضل و کمال ہے نہ کہ دولت و اقبال۔ہارون الرشید نے یہ قول بہت پسند کیا اور کسائی کو خلعت فاخرہ عنایت فرمایا۔ (تاریخ ملت)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

