ایک بیوہ کا حیرت انگیز جذبہ جہاد

ایک بیوہ کا حیرت انگیز جذبہ جہاد

میرا ایک دفعہ رقہ جانا ہوا تاکہ کوئی اونٹ خرید لوں۔ چنانچہ میں ایک دن دریائے فرات کے بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک ایک عورت آئی اور اس نے مجھ سے کہا کہ اے ابو قدامہ میں نے آپ کے متعلق سنا ہے کہ آپ جہاد پر وعظ کہتے ہیں اور لوگوں کو جہاد کی ترغیب دیتے ہیں‘ میں ایک ایسی عورت ہوں کہ اللہ نے مجھے لمبے لمبے بالوں سے نوازا ہے میں نے اپنے اکھڑے ہوئے بالوں سے ایک رسی بٹ لی ہے اور اس پر میں نے مٹی مل لی ہے تاکہ بالوں کی بے پردگی نہ ہو آپ اس رسی کو لیجئے اور اس رسی کو اپنے جہادی گھوڑے کے گلے میں ڈال دیں اور اس سے جہاد کریں ۔ میں اس عمل سے یہ چاہتی ہوں کہ میدان جہاد کا گردو غبار میرے بالوں کو لگ جائے اور اس طرح جہاد میں شمولیت کا موقع مل جائے۔
میں ایک بیوہ عورت ہوں میرے شوہر جہاد میں شہید ہوچکے ہیں اور میرا کنبہ جہاد میں شہید ہوگیا ہے اگر مجھ پر جہاد فرض ہوتا تو میں خود چلی جاتی لہٰذا میری جگہ آپ میرے ان بالوں کو جہاد میں استعمال کریں۔
پھر اس عورت نے کہا اے ابو قدامہ میرے شوہر نے اپنے پیچھے ایک خوبصورت لڑکا چھوڑا تھا اس لڑکے نے قرآن کریم حفظ کرلیا ہے اور جہادی ٹریننگ کرکے گھڑ سواری میں خوب مہارت حاصل کرلی ہے۔ نیز وہ تیر اندازی میں غضب کا ماہر ہے وہ رات بھر تہجد پڑھتا ہے اور دن بھر روزہ رکھتا ہے اس وقت وہ خوب جوان ہے اور اس کی عمر پندرہ سال ہے میں اس جوان سال بیٹے کو اللہ تعالیٰ کے راستے جہاد میں اللہ کی رضا کیلئے بطور قربانی پیش کروں گی آپ کو دین اسلام کی عزت و عظمت کا واسطہ دیتی ہوں کہ آپ مجھے اس ثواب سے محروم نہ کیجئے گا۔
میں نے اس عورت سے وہ بٹی ہوئی رسی لے لی تو دیکھا کہ وہ اس کے سر کے بالوں سے بنی ہوئی تھی اس نے مجھ سے کہا کہ آپ میرے سامنے اس رسی کو اپنے سامان میں محفوظ کرکے رکھیں تاکہ مجھے تسلی ہوجائے۔
میں نے رسی کو محفوظ کرکے رکھا اور رقہ سے اپنے ساتھیوں سمیت نکلنے لگا۔
راستہ میں ایک شاہسوار ملا جو اسی خاتون کا بیٹا تھا‘ اس نے کہا میں ان شاء اللہ شہید ابن شہید بنوں گا۔ خیر وہ ہمارے ہمراہ چلتا رہا اور مسلسل ذکر اللہ میں لگا رہا ہم کفار کے علاقے میں پہنچ گئے تو سب روزہ سے تھے وہ افطاری کا انتظام کرنے لگا اچانک اس پر نیند غالب آئی اور وہ مسکرانے لگا۔ بعد میں اس نے بتایا کہ میں جنت اور وہاں کی نعمتوں کو دیکھا ہے۔ جب صبح ہوئی تو وہ بڑی بہادری سے لڑا اور لشکر کفار کو تہس نہس کرتا ہوا آگے بڑھ گیا اور قابل رشک انداز میں جام شہاد ت نوش کر گیا۔ بعد میں میرا رقہ جانا ہوا تو میں اس کے گھر گیا تو اسی خاتون نے مجھے کہا اگر میرا بیٹا صحیح واپس آگیا ہے تو یہ غم کی خبر ہے اور اگر شہید ہوگیا ہے تو یہ خوشی کی خبر ہے۔ میں نے کہا مبارک ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے تیری قربانی قبول کرلی ہے۔
یہ سن کر وہ کہنے لگی الحمدللہ یہ میرا آخرت کا سرمایہ بن گیا

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more