بے ادبی کا عبرتناک انجام

بے ادبی کا عبرتناک انجام

بے ادبی ایک ایسا وائرس ہے جو انسان کے دین و دنیا دونوں کیلئے مہلک ہے۔یہی وجہ ہے کہ ادب کی ضرورت و اہمیت کو حدیث شریف میں یہاں تک فرمایا گیا کہ دین سارا کا سارا ادب ہی (کا نام) ہے۔ دین سراپا ادب ہے جو ہر ہر چیز کے آداب و حدود سکھاتا ہے۔ جہاں تاریخ کے اوراق ادب کے ثمرات پر گواہ ہیں وہاں بے ادبی کے مہلک و عبرت انگیز واقعات سے بھی لبریز ہیں۔ ذیل میں مسجد کی بے حرمتی کرنے والے شخص کا ایک عبرت ناک واقعہ دیا جاتا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر قسم کی بے ادبی و گستاخی سے محفوظ فرمائے آمین۔
بلبیر سنگھ کی پیدائش ۶ دسمبر ۱۹۷۰ء کو پانی پت کے ایک گائوں میں راج پوت گھرانے میں ہوئی تھی۔ ۱۹۹۰ء میں ایڈوانی کی رتھ یاترا میں اس نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس نے قسم کھائی کہ وہ ایودھیا میں رام مندر بنا کر رہے گا بلبیر سنگھ خود بتاتے ہیں کہ ۔۔۔۔’’ ہم لوگ ۴ دسمبر ۱۹۹۲ء کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ جس میں میرا دوست سونی پت کا یوکیندر پال بھی تھا جس کے والد سونی پت کے ایک بڑے زمیندار ہیں۔۔۔۔ وہاں ہم نے اوما بھارتی کا بھاشن سنا جس نے ہمارے اندر آگ بھر دی جیسے ہی اوما بھارتی نے نعرہ لگایا دھکا ایک اور دو بابری مسجد توڑ دو بس میری مرادوں کے پورا ہونے کا وقت آگیا تھا اور ہم لوگ کدال لے کر بابری مسجد کی چھت پر چڑھ گئے اور جئے رام کے نعرے لگانے لگے‘ دیکھتے ہی دیکھتے مسجد مسمار ہوگئی۔
یہ لوگ جب پانی پت واپس آئے تو مسجد کی دو اینٹیں بھی ساتھ لائے تھے۔ یوگیندر نے نفرت میں ان اینٹوں پر پیشاب کیا‘ اس واقعہ کے چار پانچ روز بعد ہی یوگیندر کا دماغ خراب ہوگیا۔۔۔ پاگل ہوکر وہ ننگا رہنے لگا‘ کپڑے پہناتے تو انہیں تار تار کردیتا‘ اس کے والد بہت پریشان ہوگئے‘ وہ ان کا اکلوتا بیٹا تھا‘ انہوں نے اسے بہت سے عاملوں اور ڈاکٹروں کو دکھایا اور جس نے جہاں کہا وہاں لے کر گئے مگر اس کی حالت بگڑتی ہی جارہی تھی۔۔۔۔ کسی نے انہیں مولوی محمد کلیم صدیقی صاحب کے بارے میں بتایا‘ انہیں پتہ چلا کہ وہ پاس کے گائوں بوانا آنے والے ہیں‘ وہ لڑکے کو زنجیروں میں باندھ کر بوانا لے گئے۔ دوپہر کو ظہر سے پہلے مولوی کلیم صاحب آئے۔ انہیں پورا قصہ سنایا اور کہا ہم نے اسے بہت روکا تھا مگر یہ نہیں مانا اور سر پھروں کے چکر میں آگیا۔
ساری کہانی سن کر مولوی صاحب نے کہا کہ ساری دنیا کو چلانے والا اللہ ہے۔ اللہ کے گھر کو گرا کر اس نے بڑا گناہ اور ظلم کیا ہے۔ اس میں کچھ گناہ ہم لوگوں کا بھی ہے کہ ہم نے دین کا پیغام غیر مسلم بھائیوں تک نہیں پہنچایا‘ اب ہمارے بس میں کچھ بھی نہیں۔۔۔ بس یہ ہے کہ آپ بھی اس مالک کے سامنے گڑ گڑا کر معافی مانگیں اور ہم بھی معافی مانگیں۔ مولوی صاحب نے مسجد میں گڑ گڑا کر دعا کی۔ جب سب لوگ فارغ ہوکر مسجد سے باہر نکلے تو اللہ کا کرم کہ یوگیندر نے اپنے باپ کی پگڑی اتار کر اپنے ننگے جسم پر لپیٹ لی اور جلد ہی یوگیندر نارمل ہونا شروع ہوگیا۔۔۔۔ یہ سب دیکھ کر یوگیندر اور اس کے والد نے اللہ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور سچے دل سے اسلام قبول کرلیا۔ (البلاغ)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more