سوا لاکھ طواف کی مَنّت
حضرت مولانا یوسف متالا صاحب مدظلہ (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت کاندھلوی رحمہ اللہ )فرماتے ہیں۔۔۔
مفسرِ قرآن حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ کے صاحبزادہ مولوی حبیب اللہ رحمہ اللہ جب یہاں (مکہ مکرمہ)پہنچے تھے ۔۔۔تو اس وقت ان کے پاس یہاں رہائش کی کوئی شکل ۔۔۔صورت قانونی بھی نہیں تھی۔۔۔اور ظاہری معیشت کے اعتبار سے بھی یہاں قیام کی شکل نہیں تھی۔۔۔ تو انہوں نے منت مانی تھی کہ الٰہی ! میرا یہاں رہنے کا انتظام ہو جائے اور اقامہ مل جائے تو میں سوا لاکھ طواف کروں گا۔۔۔ ان کے خدام فرماتے ہیں کہ جیسی نذر مانی اور اسکے ساتھ انہوں نے فیصلہ کا انتظار کیے بغیر طواف شروع کر دئیے تھے۔۔۔ رات میں۔۔۔دن میں۔۔۔جس وقت جائو تو ان کو ہم طواف میں مشغول پاتے تھے۔۔۔
مولانا غلام رسول صاحب بتاتے تھے کہ ان کی طرح سے دوڑ کر طواف کرنے والا ہم نے نہیں دیکھا۔۔۔ تو انہوں نے طواف پورے کر لیے تھے۔۔۔ اور اس کے نتیجہ میں اس وقت حکومت کی طرف سے اقامہ مل گیا کہ ان کی یہ نذر اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالی۔۔۔اور آرڈر (Order)ان کے متعلق آیا کہ ان کو نہ صرف قیام کی اجازت دی جاتی ہے ۔۔۔بلکہ حکومت قیام سارا کا انتظام کرنے کے لیے تیارہے۔۔۔ اور حکومت نے اپنی طرف سے وظیفہ کے لیے بھی پیشکش کی۔۔۔مگر حضرت مولانا حبیب اللہ صاحب نے فرمایا کہ مجھے کوئی چیز نہیں چاہئے۔۔۔مجھے بس اسی حرم شریف میں ایک کونہ مل جائے کہ میں یہاں پڑا رہوں۔۔۔ چنانچہ حرم شریف میں جو تہہ خانہ ہے تو ۔۔۔اس وقت اس میں خالی ۔۔۔کمرے بنے ہوئے تھے۔۔۔تو ایک کمرہ ان کو دیا گیا تھا۔۔۔اس میں وہ مقیم تھے۔۔۔ (جمال محمدی ص ۲۰۸)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

