بیٹی کیلئے داماد کا انتخاب
ایک مرتبہ آپ نے مسجد میں دیکھا کہ غریب آدمی نماز میں مشغول ہے اور نماز کا حق جیسا کہ اس کا حق ہے ادا کر رہا تھا۔۔۔ اس کے چہرہ سے وقار و مسکنت معلوم ہوتی تھی۔۔۔ بس اس کی نماز کو دیکھ کر عاشق ہوگئے اور اسی وقت قصد کرلیا کہ اپنی لڑکی کا نکاح اس کے ساتھ کروں گا ۔۔۔اس سے بڑھ کر کون ہوگا ۔۔۔اس کے اور کسی حال کی تفتیش نہیں کی کہ یہ کون ہے ؟۔۔۔۔کتنا اس کے پاس سازو سامان ہے ؟جب وہ نماز پڑھ چکے تو ان سے کہا کہ مجھ کو تم سے کچھ کہنا ہے۔۔۔ چنانچہ آپ نے پوچھا کہ تمہاری شادی ہوگئی ہے یا نہیں اس نے جواب دیا کہ مجھے لڑکی کون دیتا ہے۔۔۔ میں کہاں اس قابل ہوں ۔۔۔بالکل غریب و مفلس ہوں۔۔۔ ایسوں کو کون پوچھتا ہے اور اس نے شاہ شجاع کو پہچانا نہیں کہ یہ وہ تارک السلطنت بادشاہ ہیں ۔۔
آپ نے فرمایا کہ اگر کوئی راضی ہو جائے تو منظور بھی کرلو گے۔۔۔ اس نے کہا کہ ہم جیسوں کو کون پوچھتا ہے ۔۔۔آپ نے فرمایا کہ اگر شاہ شجاع کرمانی رحمہ اللہ اپنی لڑکی دے دے تو لے لو گے ؟
وہ گھبرا کر کہنے لگا کہ خدا کے واسطے میرے جوتیاں نہ لگوانا بھلا کہاں میں اور کہاں شاہ شجاع کرمانیؒ اور ان کی بیٹی، مجھ سے کیوں مذاق کرتے ہو۔۔۔ آپ مجھ کو ذلیل کرتے اور بناتے ہو۔۔۔ جائو اپنا کام کرو آپ نے فرمایا۔۔۔ واللہ !میں بناتا نہیں اس پر کہنے لگا کہ اگر ایسا ہو ۔۔۔تو میں اُن کا تبرک سمجھوں گا آپ نے فرمایا کہ میں ہی شاہ شجاع ہوں۔۔۔ میں خوشی سے اپنی لڑکی تمہیں دوں گا ۔۔۔اتنا ٹھہرو کہ میں لڑکی سے پوچھ لوں ۔۔
چنانچہ آپ گئے ۔۔۔اور لڑکی سے اسکے زہد و تقویٰ کا حال بیان کیا ۔۔۔اور دلیل یہ بیان کی کہ نماز اچھی پڑھتا ہے۔۔۔ یہ کچھ بھی نہیں فرمایا ۔۔۔۔کہ دنیا کا مال و متاع بھی کچھ ہے یا نہیں ۔۔۔
غور کیجئے کہ دلیل کیا اچھی بیان فرما رہے ہیں کہ نماز اچھی پڑھتا ہے اورچونکہ یہ تجربہ ہے کہ صحبت کا اثر بہ نسبت لڑکوں کے لڑکیوں پر زیادہ ہوتا ہے اُن کا قلب اثر صحبت کے لئے لڑکوں سے زیادہ صالح ہوتا ہے اور اسی لئے اس لڑکی پر بھی باپ کی صحبت کا اثر خوب پڑا ہوا تھا وہ بھی کامل ہوگئی تھیں ان پر اس دلیل کا کافی اثر ہوا بولیں کہ مجھ کو منظور ہے مگر ایک شرط سے کہ اس شخص میں حُبِّ دنیا نہ ہو اور آگے آپ کو اختیار ہے غرض نکاح کردیا اور اس کے گھر پہنچا دیا اورنصیحت کردی کہ خاوند کی اطاعت کرنا۔۔۔
اب اُن صاحبزادی کا حال سنئے کہ صاحبزادی نے گھر کے دروازہ میں قدم رکھا تو دیکھا کہ ایک سوکھی ہوئی روٹی گھڑے پر ڈھکی ہوئی رکھی ہے یہ دیکھتے ہی فوراً الٹے پائوں لوٹ پڑیں اور کہا ۔۔۔اباجان نے مجھ کو کہاں دھکا دیدیا ۔۔۔اس شخص نے کہا کہ میں تو پہلے ہی سمجھے ہوئے تھا کہ بادشاہ کی بیٹی مجھ کو خاطر میں نہ لائیں گی۔۔۔ صاحبزادی نے کہا کہ بعض گمان گناہ ہوتا ہے۔۔۔ تم نے یہ خیال کیا ہوگا ۔۔۔کہ میں تمہاری غریبی کو دیکھ کر واپس ہوئی ہوں۔۔۔ سو یہ بات نہیں میں تو اس لئے لوٹی ہوں کہ والد نے کہا تھا کہ زاہد متوکل شخص ہے ۔۔۔ سو اگر تم کو خدا پر توکل ہوتا۔۔۔ تو اس روٹی کے رکھنے کو کیوں پسند کرتے۔۔۔
اُس نے کہا کہ میرا روزہ تھا میں نے اس خیال سے یہ روٹی رکھ لی تھی کہ اس سے روزہ افطار کروں گا۔۔۔ لڑکی نے جواب دیا کہ تونے جس کا روزہ رکھا ہے تو اس کا مہمان ہے اور مہمان کی خبر گیری میزبان کے ذمہ ہے پھر کیوں اس کو رکھ چھوڑا ہے۔۔۔ اس شخص نے فوراً اس روٹی کو خیرات کردیا تب وہ گھر میں داخل ہوئیں ۔۔۔(خطبات ج ۱۴)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

