ماں کی بددعا ایک عبرت انگیز واقعہ
ایک فوجی میجر صاحب اپنے بچوں کو کوئٹہ سے منڈی بہائو الدین لے جانے کے لیے تیار ہوئے۔۔۔ پلیٹ فارم پر پہنچے تو پتا چلا کہ گاڑی تقریباً آدھا گھنٹہ لیٹ ہے۔۔۔ خیر بیٹھ گئے ریل کے انتظار میں۔۔۔ انتظار کچھ زیادہ طویل نہ ہوا اور ریل گاڑی پلیٹ فارم پر پہنچ گئی۔۔۔ میجر صاحب کہتے ہیں کہ ہمارے ڈبے میں رش زیادہ تھا۔۔۔ سب لوگ باری باری سوار ہونے لگے۔۔۔ ہم بھی سوار ہو ہی رہے تھے کہ ریل آہستہ آہستہ چلنے لگی۔۔۔میں نے اپنے بچوں کو جلدی جلدی گاڑی میں سوار کیا اور خود بھی گاڑی میں سوار ہونے کے لیے ایک آدمی کو ہاتھ دیا کہ اچانک ہی گاڑی کی رفتار تیزی ہوگئی اور میرا ہاتھ اس آدمی کے ہاتھ سے پھسل گیا اور میجر صاحبنیچے گر پڑے۔۔۔ ایک شور اٹھا اور ریل گاڑی جھٹکے سے رک گئی۔۔۔ تمام مسافر ریل گاڑی سے اترنے لگے اور میجر کے گرد حلقہ بنا کر کھڑے ہوگئے۔۔۔ جیسے ہی میں نے میجر کی طرف دیکھا تو دل ہل کر رہ گیا۔۔۔ کیونکہ ان کی دونوں ٹانگیں جسم سے علیحدہ ہوگئی تھیں اور خون بے تحاشاہ بہہ رہا تھا۔۔۔ میجر صاحب آہ و بکا کر رہے تھے ۔۔۔لیکن اپنے ہوش میں تھے۔۔۔ میں کھڑا دل ہی دل میں ان کی ہمت کو داد دے رہا تھا کہ اتنی تکلیف میں بھی وہ بے ہوش نہیں ہوئے تھے۔۔۔ پھر اچانک میجر صاحب درد بھری آواز میں چلائے:۔
۔’’لوگو! آج میں نشانِ عبرت بن گیا ہوں۔۔۔ ہاں مجھ سے عبرت حاصل کرو! میں بدبخت نامراد ہوگیا۔۔۔ خدارا کبھی۔۔۔بھی اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرنا۔۔۔ دیکھو یہ انجام۔۔۔ یہ ہے میرے بدقسمتی۔۔۔ کہاں ہے میرا عہدہ؟ ۔۔۔کہاں ہے؟۔۔۔۔ جو مجھے ماں کی بددُعا سے بچانہ سکا۔۔۔‘‘ ہجوم تیزی سے بڑھ رہا تھا۔۔۔۔ شاید ریلوے پولیس نے ایمبولینس بلوا لی تھی۔۔۔مگر ان کی یہ غیر متوقع بات سن کر مجمع کو سانپ سونگھ گیا۔۔۔ سب دم بخودان کے چہرے کو دیکھنے لگے۔۔۔ چند لمحوں کے بعد وہ دوبارہ بولے۔۔۔۔
’’مجھ پر خدا کی مار ہے۔۔۔ بے شک خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔۔۔ کسی نے مجھے نہ بچایا کسی میں قدرت نہیں کہ وہ خدا کے عذاب سے کسی کو بچا سکے۔۔۔ ہاں یہ ہے بدنصیبی۔۔۔ یہ میں ہوں جو کل خود کو کچھ زیادہ ہی اونچا گمان کرتا تھا۔۔۔ اتنا اونچا کہ اسکے آگے اپنے والدین کی بھی کوئی قدر و منزلت نہ تھی۔۔۔ آہ …ہ… ہ وہ بھیانک دن۔۔۔ وہ خوف ناک صبح جب میں نے اپنے بوڑھے والدین کو خوب مارا اور جب میں مار مار کر تھک گیا ۔۔۔تو میری ماں نے صرف یہ کہا:۔
’’اے خدا! اے مالک تونے اس کی ٹانگیں کیوں نہ توڑ دیں؟ … یہ شکوہ نہیں ۔۔۔بلکہ بددعا تھی جس کا نتیجہ آپ سب لوگوں کے سامنے ہے۔‘‘
بس یہ چند جملے تھے۔۔۔ جو میجر نے کہے پھر درد کی شدت کے باعث اس کی زبان بند ہوگئی۔۔۔ اتنے میں ایمبولینس آگئی اور کچھ لوگ انہیں ہسپتال لے گئے۔۔۔ یہ واقعہ سن کر ہمارا دل لرز کر رہ گیا۔۔۔ خدایا! کیا واقعی کوئی اپنے والدین کو مار سکتا ہے۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے واقعات سے عبرت پکڑنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔اور ہمیں اپنے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے ۔۔۔آمین
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

