ٹیلی فون ۔۔۔باعث ِطلاق
ایک صاحب سے ہماری ملاقات ہوئی جو بہت ہی بے چینی اور قلق میں مبتلا تھے وہ صاحب خود ایک طبیب و معالج ہیں لوگوں کا علاج معالجہ کرتے ہیں اور اچھی شہرت رکھتے ہیں۔۔۔ انہوں نے دوران گفتگو بڑے ہی دردمندانہ لہجے میں احقر کو نصیحت کرتے ہوئے کہا جناب! میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنی بیگم کو ٹیلی فون رسیو کرنے کی اجازت قطعاً نہ دیں ۔۔۔ ورنہ ایک دن آپ کا اعتماد اپنی بیوی پر سے ختم ہوجائے گا ۔۔۔ میں نے پوچھا حکیم صاحب! خیریت تو ہے آپ کے لہجے سے اتنی پریشانی اور ایسا درد کیوں محسوس ہورہا ہے ؟تو پھر انہوں نے کہنا شروع کیا کہ میں ایک ایسے غم میں مبتلا ہوں کہ نہ گھر میں سکون ملتا ہے اور نہ مطب میں اور نہ کھانا پینا اچھا لگتا ہے۔۔۔ میں نے پوچھا: آخر ماجرا کیا ہے؟
کہنے لگے: جناب! آج میں پہلی مرتبہ اپنا یہ درد آپ کو سنا رہا ہوں اور اس سے قبل میں نے یہ قصہ کسی کو بھی نہیں بتایا۔۔۔بات یہ ہے کہ میں نے یہ ٹیلی فون لگوایا ہے اس کا ایک کنکشن دکان میں لگا ہوا ہے اور دوسرا گھر میں ہے تاکہ جب گھر میں رہوں تو وہاں کی ضرورت پوری ہو سکے اور دکان پر ہوں تو دکان کی ضروریات بھی پوری ہوسکیں۔۔۔
لیکن اب صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ میری بیوی جوکہ دیندار اور تہجد گزار باپردہ ہے ۔۔۔ ایک بار میری غیر موجودگی میں کسی کا فون آیا اس نے بات کرلی اور اس شخص نے رفتہ رفتہ باتوں کا سلسلہ بذریعہ ٹیلی فون شروع کردیا اور پھر یہ بھی فون کرنے لگی اور اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ وہ شخص میری بیوی پر عاشق ہوگیا ہے اور یہ بھی اس شخص میں دلچسپی لینے لگی ہے ۔۔۔ آمنا سامنا بھی ان کا کہیں کسی موقع پر ہوگیا ہے ۔۔۔ ایک دوسرے کو پہچاننے لگے ہیں۔۔۔ اب وہ مجھ سے پہلے جیسی الفت و محبت سے بات نہیں کرتی ۔۔۔ میں تو غم اور قلق کی وجہ سے اندرونی طور پر گھلتا جارہا ہوں ۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا کروں ؟ اتنا کہہ کر وہ آبدیدہ ہوگئے۔۔۔
میں نے ان کو تسلی دی اور اطمینان دلایا تو پھر وہ کہنے لگے ۔۔۔ میں نے اپنی بیوی پر پابندی لگا دی ہے کہ وہ کہیں ٹیلی فون نہیں کرے گی مگر اب مصیبت یہ ہے کہ اس کے عاشق کو پتہ ہے کہ میں کس وقت گھر اور مطب سے باہر جاتا ہوں اور کتنے وقت کیلئے باہر رہتا ہوں ۔۔۔ اسی دوران وہ ٹیلی فون کرتا ہے۔۔۔ میں نے ہر ممکن کوشش کی ہے مگر معاملہ قابو سے باہر ہوتا جارہا ہے ۔۔۔ اس لئے میں نے اپنی ساس کو بلا کر ساری صورتحال اس کے آگے رکھ دی ہے اب وہ ساس کہہ رہی ہے کہ حکیم صاحب !آپ ہم لوگوں کو معاف کردیں ۔۔۔ ہم سے راضی ہوجائیں اور آپ غم نہ کریں بلکہ ہماری بیٹی کو آج ہی طلاق دیدیں ہم دوسرے ہی دن اپنی دوسری کنواری بیٹی جو اس سے چھوٹی ہے آپ کے نکاح میں دیدیتے ہیں۔۔۔پھر حکیم صاحب نے اپنا ایک خواب سنایا جس کی تعبیر احقر نے حکیم صاحب کو بتا دی کہ آپ بے فکر رہیں کہ آپ کی بیوی سے ابھی تک کوئی عملی اقدام نہیں ہوا ہے ۔۔۔ صرف قولی اقدامات ہی تک کہانی پہنچی ہے ۔۔۔ تب جاکر وہ کچھ مطمئن ہوئے مگر ان کی گفتگو سے لگتا تھا کہ اب شاید ہی وہ اپنی بیوی کو اپنے گھر رکھیں۔۔۔
قارئین کرام! ۔۔۔ دیکھ لیا آپ نے ٹیلی فون سے غفلت کا انجام ۔۔۔یہ تو اس دور کا واقعہ ہے جب فون ہوا کرتے تھے اور قوم موبائلیا کے مرض کا شکار نہیں ہوئی تھی۔۔۔ موبائل کے بے دریغ استعمال کا ہی نتیجہ ہے کہ اس طرح کے واقعات آج معمول سمجھے جا نے لگے ہیں۔۔۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔۔۔ آمین
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

