عیادت سے ایمان نصیب ہوگیا

عیادت سے ایمان نصیب ہوگیا

حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ پاکستان آنے کے کچھ عرصے بعد واپس ہندوستان اپنے عزیز و اقارب سے ملنے کیلئے گئے۔۔۔ مسلمانوں کے بعض ہندوئوں سے کافی مراسم تھے ۔۔۔ مولانا کے بھی ایک ہندو سے بہت دوستانہ تعلقات تھے۔۔۔ جب حضرت رحمہ اللہ اپنے آبائی وطن پہنچے تو آپ نے اس ہندو کے بارے میں بھی پوچھا کہ وہ زندہ ہے یا نہیں؟ کس حال میں ہے؟ اور کہاں ہے؟ لوگوں نے بتلایا کہ ’’لالہ جی‘‘ بہت سخت بیمار ہیں‘ ان کو بڑی خطرناک بیماری ہوگئی ہے اور اپنے گھر میں پڑے ہیں‘ کوئی پرسان حال نہیں ہے۔۔۔ مولانا اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔۔۔ کیونکہ کافر کی عیادت بھی جائز ہے۔۔۔ جب انکے گھر پہنچے تو گھر والوں سے پوچھا کہ ’’لالہ جی‘‘ کہاں ہیں؟ انہوں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ وہاں ہیں۔۔۔
حضرت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عجیب ماجرا دیکھا کہ گھر والوں نے گھر کے ایک طرف دور ایک کونے میں ان کی چار پائی ڈالی ہوئی ہے۔۔۔ اس پر وہ پڑے ہیں۔۔۔کیونکہ سارے گھر والے یہ کہتے تھے کہ اس کو بڑی خطرناک بیماری لگی ہوئی ہے۔۔۔ اگر ہم اسکے پاس جائینگے تو ہمیں بھی لگ جائے گی ۔۔۔ چھوت چھات کا تصور ہندوئوں میں بہت زیادہ ہے۔۔۔
حضرت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدھا ’’لالہ جی‘‘ کے پاس چلا گیا اور جا کر اس کے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔ اس نے مجھے پہچانا اور حیران ہو کر مجھ سے کہنے لگا کہ آپ میرے پاس آ کر بیٹھ گئے؟ کیونکہ وہ بھی یہ سمجھ رہا تھا کہ میں اتنا خطرناک مریض ہوں کہ میرے پاس کوئی آ ہی نہیں سکتا اور حضرت کیسے بے خوف و خطر آ کر بیٹھ گئے۔۔۔ حضرت رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارا دین تو کہتا ہے کہ کسی کی بیماری کسی دوسرے کو نہیں لگتی۔۔۔حضرت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اس کے پاس بیٹھا رہا۔۔۔ باتیں کرتا رہا۔۔۔ وہ بہت خوش ہوا۔۔۔ پھر اس نے کہا کہ میں جس بیماری میں مبتلا ہوں وہ تو ہے ہی ناقابل برداشت۔۔۔ لیکن اس سے بڑھ کر میرے لیے غم یہ ہے کہ میرے گھر والے بھی مجھ سے دور ہوگئے۔۔۔
حضرت رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب دوا کا وقت ہوا تو میں نے عجیب معاملہ دیکھا کہ ایک لمبا بانس جس کے آگے ایک اینگل لگا ہوا ہے۔۔۔ گھر والوں نے اس کے اندر بالٹی لٹکائی۔۔۔ دوا اس میں ڈالی اور دوا کو اس بانس کے ذریعے سے اس تک پہنچائی۔۔۔ لالہ جی نے وہ بالٹی اس بانس سے نکالی اور پھر اسی بالٹی سے دوا نکالی اور اس کو پیا اور پھر بالٹی واپس اس بانس میں لٹکا دی جس کو اسکے گھر والوں نے کھینچ لیا۔۔۔ یہ معاملہ دیکھ کر مجھے بڑا افسوس ہوا اور میں نے ان کو تسلی دی ۔۔۔ پھر میں تھوڑی دیر اسکے پاس بیٹھا رہا۔۔۔ اس کے بعد اس نے عجیب بات کہی کہ حضرت! میرا دل تو یہ کہہ رہا ہے کہ تمہارا مذہب سچا ہے اور ہمارا مذہب جھوٹا ہے۔۔۔ اس لیے کہ تم میرے پاس بیٹھے ہو۔۔۔ یہ اس کے سچے ہونے کی علامت ہے۔۔۔ اگر ہمارا مذہب سچا ہوتا تو میرے گھر والے اس طرح مجھ سے دور نہ ہوتے۔۔۔ میرا دل یہ کہہ رہا ہے کہ تمہارا مذہب سچا ہے۔۔۔ لہٰذا جلدی سے مجھے کلمہ پڑھائو میں نے فوراً اس کو کلمہ پڑھایا۔۔۔ کلمہ پڑھنے کے تھوڑی دیر بعد ہی اس کا انتقال ہوگیا۔۔۔
اندازہ کریں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مبارکسنت پر عمل کرنے سے ایک کافر کو ایمان نصیب ہوگیا۔۔۔ (بشکریہ الخیر‘ ملتان)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more