پہلا واقعہ
ٹرانسپورٹ کی ایک بڑی کمپنی نے اپنے ملازمین کے لیے 150مکانات تعمیر کرائے دوران تعمیر بجلی کے کام کے لیے مختلف کاریگروں سے رابطہ کیا گیا ارادہ تھا کہ کسی ایک اچھے مکینک کو تمام مکانات میں بجلی کے کام کا ٹھیکہ دیدیا جائے۔۔۔ کمپنی نے مختلف کاریگروں سے اسٹیمیٹ لگوایا کہ فی مکان کتنی تار درکار ہوگی۔۔۔ انہی کاریگروں میں محمد منیر نامی مکینک بھی تھا جو صوم و صلوٰۃ کا پابند اور باشرع آدمی ہے۔۔۔ جب کمپنی نے اس کا انٹرویو لیا تو اس نے کہا فی مکان 500گز تار استعمال ہوگی۔۔۔ کمپنی نے یہ سن کر کہا کہ آپ شاید بجلی کے کام سے واقف نہیں۔۔۔ منیر صاحب نے کہا میری ساری زندگی اسی کام میں صرف ہوئی ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ میں اس کام سے واقف نہیں۔۔۔ میں نے یہ 500گز تار بھی پوری تسلی کے بعد بتائی ہے جس میں سے کچھ بچ بھی جائے گی۔۔۔ کمپنی نے کہا اچھا آپ ایک مکان کی وائرنگ کرکے دکھائیں۔۔۔ منیر صاحب نے جب ایک مکان کی وائرنگ مکمل کی تو پتہ چلا کہ صرف 450گز تار استعمال ہوئی ہے۔۔۔ کمپنی والوں نے کہا ہم نے تو جس مکینک سے بھی بات کی اس نے کہا کہ فی مکان کم از کم 1500گز تار لگے گی۔۔۔
کمپنی نے منیر صاحب کی ایمانداری کو دیکھ کر نہ صرف انہیں 150مکانات کی بجلی کے تمام کاموں کا ٹھیکہ دیدیا بلکہ حسب خواہش تنخواہ پر اپنے ہاں سپروائزر کے طور پر مستقل ملازم بھی رکھ لیا۔۔۔ منیر صاحب نے اپنے جدید و قدیم تمام شاگردوں کو اس بڑے ٹھیکہ میں کھپا دیا۔۔۔ سچ ہے کہ ایسے ایماندار لوگ زمین پر آفتاب و مہتاب کی مانند ہیں۔۔۔ منیر صاحب اس پر فتن دور میں واقعی منیر ہیں جن کی روشنی ہمیں بھی ایمانداری کا درس دیتی ہے۔۔۔
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

