جسد اطہر سے متعلق ایک ناکام جسارت
مدینے کی مشہور اور مختصر تاریخ وفاء الوفا کے مصنف علامہ نور الدین ابو الحسن سمہودی رحمہ اللہ نے اپنی اس کتاب میں ایک عجیب تاریخی واقعہ کو نقل کیا ہے۔۔۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
ایک رات نماز تہجد کے بعد۔۔۔ سلطان نور الدین زنگی نے خواب میں دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو سرخی مائل رنگ کے آدمیوں کی طرف اشارہ کرکے سلطان سے کہہ رے ہیں کہ مجھے ان کے شر سے بچا۔۔۔
سلطان ہڑ بڑا کر اٹھا۔۔۔ وضو کیا۔۔۔ نفل ادا کیے اور پھر اس کی آنکھ لگ گئی۔۔۔ دوبارہ وہی خواب دیکھا۔۔۔ اٹھا وضو کیا۔۔۔ نفل پڑھے اور سو گیا۔۔۔ تیسری بار وہی خواب دیکھا۔۔۔ اب اس کی نیند اڑ گئی۔۔۔ اس نے رات کو ہی اپنے مشیر جمال الدین موصلی کو بلا کر پورا واقعہ سنایا۔۔۔ مشیر نے کہا: سلطان یہ خواب تین بار دیکھنے کے بعد آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟ اس کا اب کسی سے ذکر نہ کریں اور فوراً مدینے روانہ ہو جائیں۔۔۔ اگلے روز سلطان نے بیس مخصوص افراد اور بہت سے تحائف کے ساتھ مدینے کے لیے کوچ کیا اور سولہویں روز شام کے وقت وہاں پہنچ گیا۔۔۔ سلطان نے رَوضہ رسول پر حاضری دی اور مسجد نبوی میں بیٹھ گیا۔۔۔ اعلان کیا کہ اہل مدینہ مسجد نبوی میں پہنچ جائیں۔۔۔ جہاں سلطان ان میں تحائف تقسیم کرے گا۔۔۔ لوگ آتے گئے اور سلطان ہر آنے والے کو باری باری تحفہ دیتا رہا۔۔۔
اس دوران وہ ہر شخص کو غور سے دیکھتا رہا۔۔۔ لیکن وہ دو چہرے نظر نہ آئے جو اسے ایک رات میں تین بار خواب میں دکھائے گئے تھے۔۔۔ سلطان نے حاضرین سے پوچھا: کیا مدینے کا ہر شہری مجھ سے مل چکا ہے؟ جواب اثبات میں تھا۔۔۔ سلطان نے پھر پوچھا کیا تمہیں یقین ہے کہ ہر شہری مجھ سے مل چکا ہے؟ اس بار حاضرین نے کہا: سوائے دو آدمیوں کے۔۔۔
راز تقریباً فاش ہو چکا تھا۔۔۔ سلطان نے پوچھا: وہ کون ہیں؟ او راپنا تحفہ لینے کیوں نہیں آئے؟ بتایا گیا کہ یہ مراکش کے صوم و صلوۃ کے پابنددو متقی باشندے ہیں۔۔۔ دن رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دُرُود سلام بھیجتے ہیں اور ہر ہفتے مسجد قبا جاتے ہیں۔۔۔ فیاض اور مہمان نواز ہیں۔۔۔ کسی کا دیا نہیں لیتے۔۔۔
سلطان نے کہا: سبحان اللہ اور حکم دیا کہ ان دونوں کو بھی اپنے تحائف وصول کرنے کے لیے فوراً بلایا جائے۔۔۔ جب انہیں یہ خصوصی پیغام ملا تو انہوں نے کہا: الحمد للہ۔۔۔ ہمارے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے اور ہمیں کسی تحفے تحائف یا خیر خیرات کی حاجت نہیں۔۔۔ جب یہ جواب سلطان تک پہنچایا گیا تو اس نے حکم دیا کہ ان دونوں کو فوراً پیش کیا جائے۔۔۔ حکم کی فوری تعمیل ہوئی۔۔۔ ایک جھلک ان کی شناخت کے لیے کافی تھی۔۔۔ تاہم سلطان نے اپنا غصہ قابو میں رکھا اور پوچھا: تم کون ہو؟ یہاں کیوں آئے ہو؟ انہوں نے کہا ۔۔۔ ہم مراکش کے رہنے والے ہیں۔۔۔ حج کے لیے آئے تھے اور اب رَوضہ رسول کے سائے میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔۔۔ سلطان نے سختی سے کہا: کیا تم نے جھوٹ بولنے کی قسم کھا رکھی ہے؟ اب وہ چپ رہے۔۔۔ سلطان نے حاضرین سے پوچھا: یہ کہاں رہ رہے ہیں؟ بتایا گیا کہ رَوضہ نبوی کے بالکل نزدیک ایک مکان میں (جو مسجد نبوی کے جنوب مغرب میں دیوار کے ساتھ تھا) سلطان فوراً اٹھا اور انہیں ساتھ لے کر اس مکان میں داخل ہوگیا۔۔۔ سلطان مکان میں گھومتا پھرتا رہا۔۔۔ اچانک نئے اور قیمتی سامان سے بھرے ہوئے اس مکان میں۔۔۔ اس کی نظر فرش پر پڑی ہوئی ایک چٹائی پر پڑی۔۔۔ نظر پڑنی تھی کہ دونوں مراکشی باشندوں کی ہوائیاں اڑ گئیں۔۔۔ سلطان نے چٹائی اٹھائی۔۔۔ اس کے نیچے ایک تازہ کھدی ہوئی سرنگ تھی۔۔۔
سلطان نے گرج کر کہا: کیا اب بھی سچ نہ بولو گے؟ ان کے پاس سچ کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔۔۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ عیسائی ہیں اور ان کے حکمراں نے انہیں بہت سا مال و زر اور ساز و سامان دے کر حاجیوں کے روپ میں مراکش سے اس منصوبے پر حجاز بھیجا تھا کہ وہ کسی نہ کسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسد اقدس رَوضۂ مُبارک سے نکال کر لے آئیں۔۔۔ اس ناپاک منصوبے کی تکمیل کے لیے۔۔۔ انہوں نے حج کا بہانہ کیا اور اس کے بعد رَوضہ رسول سے نزدیک ترین جو مکان کرائے پر مل سکتا تھا۔۔۔ وہ لے کر اپنا مذموم کام شروع کر دیا۔۔۔ ہر رات وہ سرنگ کھودتے۔۔۔ جس کا رخ رَوضۂ مُبارک کی طرف تھا اور ہر صبح کھدی ہوئی مٹی چمڑے کے تھیلوں میں بھر کر جنت البقیع لے جاتے اور اسے قبروں پر بکھیر دیتے۔۔۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی ناپاک مہم بالکل آخری مراحل میں تھی کہ ایک رات موسلادھار بارش کے ساتھ ایسی گرج چمک ہوئی جیسے زلزلہ آگیا ہو اور اب جب کہ ان کا کام پایہ تکمیل کو پہنچنے والا تھا تو سلطان نہ جانے کیسے مدینے پہنچ گئے۔۔۔ سلطان نور الدین زنگی نے حکم دیا کہ ان دونوں کو قتل کر دیا جائے۔۔۔ رَوضۂ مُبارک کے گرد ایک خندق کھودی جائے اور اسے پگھلے ہوئے سیسے سے پاٹ دیا جائے۔۔۔ تاکہ آئندہ کوئی بدبخت ایسی مذموم حرکت کے بارے میں سوچ بھی نہ سکے۔۔۔
مذکورہ بالا واقعہ 557ھ مطابق 1162ء کا ہے۔۔۔ تین صدیوں بعد 881ھ مطابق 1476۔۔۔ 77ء میں حضرت عائشہ کے حجرے کی چار دیواری اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کی بنوائی ہوئی پانچ دیواری کی از نو تعمیر کی ضرورت پڑ گئی۔۔۔ (روضۃ النبی)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

