۔۹۰ برس بعد بیت المقدس کی فتح
حطین کی فتح کے بعد وہ مبارک موقع جلد آ گیا جس کی سلطان کو بے حد آرزو تھی، یعنی بیت المقدس کی فتح، قاضی ابن شداد نے لکھا ہے کہ! سلطان کو بیت المقدس کی ایسی فکر تھی اور اس کے دل پر ایسا بار تھا کہ پہاڑ اس کے متحمل نہیں تھے۔
اسی سال ۵۸۳ھ ۲۷ رجب کو سلطان بیت المقدس میں داخل ہوئے اور پورے ۹۰ برس کے بعد یہ پہلا قبلہ جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی شب میں انبیاء علیہم السلام کی امامت کی تھی، اسلام کی تولیت میں آیا، یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ سلطان کے داخلہ کی تاریخ بھی وہی تھی جس تاریخ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی تھی۔
قاضی ابن شداد لکھتے ہیں:یہ عظیم الشان فتح تھی، اس مبارک موقع پر اہل علم کی بہت بڑی جماعت اورا ہل حرفہ اور اہل طرق کی کثیر تعداد جمع تھی، اس لیے کہ لوگوں کو جب ساحلی مقامات کی فتح اور سلطان کے ارادہ کی اطلاع ملی اور مصر و شام سے علماء نے بیت المقدس کا رخ کیا اور کوئی روشناس اور معروف آدمی پیچھے نہیں رہا۔ ہر طرف دعا تحلیل و تکبیر کا شور بلند تھا، بیت المقدس میں (۹۰برس کے بعد) جمعہ کی نماز ہوئی قبہ صخرہ پر جو صلیت نصب تھی وہ اتار دی گئی ایک عجیب منظر تھا اور اسلام کی فتح مندی اور اللہ تعالیٰ کی مدد کھلی آنکھوں نظر آ رہی تھی۔
نور الدین زنگی رحمہ اللہ نے بیت المقدس کے لیے بڑے اہتمام اور بڑے صرف سے منبر بنوایا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ بیت المقدس واپس دلائے گا تو یہ منبر نصب کیا جائے گا، صلاح الدین رحمہ اللہ نے حلب سے وہ منبر طلب کیا اور اس کو مسجد اقصیٰ میں نصب کیا۔
صلاح الدین رحمہ اللہ نے اس موقع پر جس عالیٰ ظرفی، دریا دلی اور اسلامی اخلاق کا مظاہرہ کیا وہ عیسائی مؤرخ کی زبان سے سننے کے قابل ہے۔
صلاح الدین نے کبھی پہلے اپنے تئیں ایسا عالیٰ ظرف اور باہمت نائٹ ثابت نہیں کیا تھا، جیسا کہ اس موقع پر کیا، جب یروشلم مسلمانوں کے حوالے کیا جا رہا تھا، اس کی سپاہ اور معزز افسران ذمہ دار نے جو اس کے تحت تھے شہر کے گلی کوچوں میں انتظام قائم رکھا، یہ سپاہی اور افسر ہر قسم کے ظلم و زیادتی کو روکتے تھے اور اس کا نتیجہ تھا کہ کوئی وقوعہ جس میں کسی عیسائی کو گزند پہنچا ہو پیش نہ آیا۔ شہر کے باہر جانے کے کل راستوں پر سلطان کا پہرا تھا اور ایک نہایت معتبر امیر باب دائود پر متعین تھا، کہ ہر شہر والے کو جو زرِ فدیہ ادا کر چکا ہے باہر جانے دے۔
پھر سلطان کے بھائی العادل اور بطریق اور بالیان کے ہزار ہزار غلام آزاد کرنے پر تذکرہ کرنے کے بعد لکھتا ہے۔
اب صلاح الدین نے اپنے امیروں سے کہا کہ میرے بھائی نے اپنی طرف سے اور بالیان اور بطریق نے اپنی طرف سے خیرات کی، اب میں اپنی طرف سے بھی خیرات کرتا ہوں اور یہ کہہ کر اس نے اپنی سپاہ کو حکم دیا کہ شہر کے تمام گلی کوچوں میں منادی کر دیں کہ تمام بوڑھے آدمی جن کے پاس زرِ فدیہ ادا کرنے کو نہیں ہے، آزاد کئے جاتے ہیں کہ جہاں چاہیں وہ جائیں۔ اور یہ سب باب البعزر سے نکلنے شروع ہوئے اور سورج نکلنے سے سورج ڈوبنے تک ان کی صفیں شہر سے نکلتی رہیں، یہ خیر خیرات تھی جو صلاح الدین نے بے شمار مفلسوں اور غریبوں کے ساتھ کی۔
غرض اس طرح صلاح الدین نے اس مغلوب و مفتوح شہر پر اپنا احسان و کرم کیا، جب سلطان کے ان احسانات پر غور کرتے ہیں تو وہ وحشیانہ حرکتیں یاد آتیں ہیں جو شروع کے صلیبیوں نے ۱۰۹۹ھ میں یروشلم کی فتح پر کی تھیں۔ (تاریخ دعوت و عزیمت )
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

