جنت کی غذا کا عجیب و غریب اثر
عیسیٰ ابن محمد عیسیٰ طہمانی متوفی ۲۹۲ھ سے ابن سبکی نے اپنے طبقات کبریٰ میں ایک واقعہ نقل فرمایا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ راوی کو شہر خوارزم کے ایک گائوں طویل ہزار و نیف میں ایک عورت کے متعلق بتایا گیا کہ وہ مدت سے قطعی غذا یا پانی سے بے نیاز ہے، جب کہ ان کا گزر وہاں ۲۳۸ھ میں ہوا تھا۔ پھر ۲۴۲ھ میں وہاں پہنچے۔ اس وقت بھی وہ نیک بی بی موجود تھیں۔ مگر اپنی کمر عمری کی وجہ سے پوری طرح حالات کا جائزہ نہ لے سکے۔
پھر ۲۵۲ھ میں جب خوارزم پہنچے تب تک وہ موجود تھیں اور ان کی خبر اچھی طرح ہر خاص و عام تک پہنچ چکی تھی اور ہر خورد وکلاں سے ان کی خبر اچھی طرح معلوم کی جا سکتی تھی۔ وہاں کے لوگوں نے تجربہ کے طور پر مہینہ دو مہینے کسی گھر میں مقفل کر کے دیکھا اور نگہبانی بھی کی۔ مگر واقعہ کی صداقت میں ذرہ برابر فرق نہیں پایا۔ گھر میں کہیں پیشاب و پاخانہ کا اثر بھی نہ ملا۔
بہرحال جب مجھ کو بھی یقین ہو گیا تو میں نے براہ راست ملاقات کر کے ان کی زبانی حالات معلوم کرنے کی ٹھانی۔ تلاش کرتا ہوا اس قریہ میں پہنچا جہاں ان کے موجود ہونے کی اطلاع دی گئی تھی مگر وہاں نہ ملیں۔ مگر میں گائوں گائوں قریہ قریہ تلاش کرتا ہوا بالآخر ان کو پالینے میں کامیاب ہو گیا۔
دیکھا کہ ایک عورت پستہ قامت، چھریرہ بدن، سرخ و سپید چہرہ والی پوری قوت سے پیدل چل رہی ہے، چونکہ میں سواری پر تھا۔ میں نے سواری پیش کی۔ اس نے عذر کر دیا اور میرے ساتھ پیدل ہی چلتی رہی۔ میں نے ان کے حالات کی تفصیل چاہی اور حسب ذیل گفتگو ہوئی:۔
عیسیٰ محمد:۔ کرم فرما کر آپ اپنا نام اور پوری پوری حقیقت ذرا تفصیل سے بیان فرمائیے۔
عورت:۔ میرا نام رحمت دختر ابراہیم ہے۔ میرا شوہر ایک نجار (بڑھئی) تھا۔ روزی کا ذریعہ روزانہ کی مزدوری تھی اور کئی بچے تھے، سب کی پرورش اسی پیشہ کے ذریعے ہوتی تھی اور دوسرا ذریعہ معاش نہ تھا اور غربت کی وجہ سے کچھ پس انداز بھی نہ کر سکتی تھی۔ بدقسمتی سے ایک ترک بادشاہ اقطع نے میرے گائوں کے بہت سارے لوگوں کو قتل کرایا۔ چنانچہ کوئی گھر ایسا نہ بچا جس میں کوئی قتل سے بچا ہو۔ چنانچہ میرا شوہر بھی قتل کر دیا گیا۔
جب میرے سامنے شوہر کی لاش لائی گئی تو میرے رنج و غم کی کوئی انتہا نہ رہی۔ پڑوس کی عورتیں میرے غم میں شریک ہو کر گریہ و زاری میں مصروف ہو گئیں۔
میری دنیا تاریک ہو گئی جس طرح ایک نوجوان کثیر الاولاد عورت اپنے شوہر کی وفات پر ماتم کر سکتی ہے میں بھی کرتی رہی۔
جب بچوں پر بھوک کا غلبہ ہوا، سب رونے لگے اور مجھ سے روٹی مانگنے لگے۔ اس وقت مجھے اور بھی رنج ہوا کہ یا اللہ اب ان کی زندگی کا سہارا تو ختم ہو گیا۔ اب میں کیا کروں۔ کیا کھلائوں، کہاں سے لائوں، کچھ پس انداز بھی نہیں ہے۔
اسی اثناء میں مغرب کی اذان ہو گئی۔ جلدی جلدی نماز پڑھی اور بارگاہ الٰہی میں سربسجود ہو کر نہایت عجز و انکساری سے دعا کی کہ بار الٰہا! تو ان بچوں کو صبر کی توفیق عطا فرما اور ان کی یتیمی پر رحم فرما۔
اسی حالت میں مجھے نیند آ گئی معلوم ہوا کہ میں ایک سنگلاخ زمین پر پہنچ گئی ہوں اور اپنے شوہر کو تلاش کر رہی ہوں۔ ایک آواز آئی اے عورت! (خذی ذات الیمین) داہنی طرف کو جا۔ میں داہنی جانب مُڑ گئی۔ اب ایسی سرزمین پر پہنچی جو نہایت سرسبز و شاداب ہے۔ نہریں بہہ رہی ہیں، اونچے اونچے محلات کھڑے ہیں۔ میں نے ایسی جگہ کبھی نہ دیکھی تھی اور نہ اس کی پوری تعریف کر سکتی ہوں۔ اسی سرسبز و شاداب زمین پر ایک جگہ بہت سے لوگوں کو دیکھا جو حلقہ باندھ کر سنہرے کپڑے پہن کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کے چہروں پر انوارِ الٰہی کی تابانی جلوہ باری کر رہی ہے۔ ان کے سامنے دستر خوان ہے جس میں انواع و اقسام کی غذائیں عمدہ عمدہ چُنی ہوئی ہیں۔ میں ایک ایک چہرہ کو بغور دیکھتی جاتی ہوں اور اپنے شوہر کو تلاش کر رہی ہوں۔
اچانک آواز آئی یا رحمت! یارحمت! میں آواز کی طرف مُڑی تو میرا شوہر دکھائی دیا۔ اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمک رہا ہے۔ وہ اپنے شہید بھائیوں کے درمیان میں دستر خوان پر بیٹھے کھانا تناول فرما رہے ہیں۔ مجھے دیکھ کر اپنے رفقاء سے فرمانے لگے۔ یہ عورت بہت مایوس ہو گئی ہے اور کئی دن سے بھوکی ہے۔ اگر آپ حضرات اجازت دے دیں تو اس کو کچھ دے دوں۔ سب نے بخوشی اجازت دے دی۔
میرے شوہر نے مجھے روٹی کا ایک ٹکڑا عنایت فرمایا جو بہت سفید اور نہایت لذیذ، شہد و شکر سے زیادہ میٹھی اور مکھن سے زیادہ نرم تھی۔ میں نے اسے لے کر کھا لیا۔ لوگوں نے کہا جائو اب تمہیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کھانے پینے کی حاجت قطعی باقی نہ رہے گی، جب تک کہ تم زندہ رہو گی۔ جب اس خواب سے بیدار ہوئی تو میں اچھی طرح شکم سیر تھی۔ اس دن سے آج تک مجھے کھانے پینے کی ضرورت نہیں رہی۔
عیسیٰ ابن محمد۔ کیا آپ کچھ ناشتہ کر لیتی ہیں یا پانی کے علاوہ کوئی چکنی چیز جیسے دودھ وغیرہ پی لیتی ہیں؟
عورت:۔ کوئی چیز نہیں۔
عیسیٰ ابن محمد:۔ آپ کو پیشاب اور پاخانہ کی حاجت ہوتی ہے یا ر یاح خارج ہوتی ہے؟
عورت:۔ ایسی کوئی بات نہیں ہوتی۔
عیسیٰ ابن محمد:۔ کبھی مرد کے پاس رہنے کی خواہش ہوتی ہے؟
عورت:۔ تمہیں ایسا سوال کرتے ہوئے ذرا شرم نہیں آئی۔
عیسیٰ ابن محمد:۔ آپ ناراض نہ ہوں مجھے تو لوگوں کے سامنے پورا پورا قصہ بیان کرنا ہے۔
عورت:۔ نہیں اس قسم کی بھی خواہش نہیں ہے۔
عیسیٰ ابن محمد:۔ آپ سو بھی لیتی ہیں جس طرح تمام انسان سوتے ہیں۔
عورت۔ جی میں خوب سوتی ہیں اور جس طرح سب لوگ خواب دیکھتے ہیں میں بھی دیکھتی ہوں۔
عیسیٰ ابن محمد:۔ کھانہ نہ کھانے سے کوئی سستی محسوس کرتی ہیں؟
عورت:۔ قطعی نہیں! جب سے میں نے وہ کھانا کھایا ہے ہر چیز سے بے نیاز ہوں اور بالکل چست و چالاک ہوں۔
عیسیٰ ابن محمد فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوا کہ ان کا پیٹ دُبلا ہو کر پیٹھ سے لگ گیا ہے تو میں نے ایک عورت سے تصدیق کے لئے کہا اس نے دیکھ کر بتایا کہ یہ بالکل صحیح ہے۔ بلکہ اس نے کپڑے میں روئی لپیٹ کر پیٹ پر باندھ لیا ہے تاکہ چلنے میں پیٹھ کبڑی نہ ہو جائے۔
اس واقعہ کو علاوہ ابن سبکی کے ابن الاہوال نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے کہ عیسیٰ ابن محمد نے ایک ایسی عورت کو خوارزم میں دیکھا ہے کہ جو بائیس سال تک بے آب و دانہ رہی۔
امام یافعی نے اس پر اضافہ فرمایا کہ تیس سال تک اس حالت میں رہی۔ اس پر گرمی اور سردی کا مطلق اثر نہ ہوتا تھا۔
امام ذہبی نے عنبر میں اسی طرح تحریر فرمایا ہے۔
غرض یہ واقعہ اتنا مصدقہ ہے کہ بڑے بڑے ثقہ مؤرخین نے اپنی تاریخوں میں بغیر کسی نقد و جرح کے درج کر لیا ہے۔ (شذرات الذہب )
سبحان اللہ! اس واقعہ سے شہداء کی عنداللہ قدرومنزلت اور کرامت کا حال معلوم ہوا اور جنت کی غذا کا اثر دنیا والوں کے مشاہدہ میں آگیا۔
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

