حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اور معمول کی پابندی
شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ اپنے خطبات میں فرماتے ہیں۔
حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ جو حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے استاد تھے وہ ایک مرتبہ حضرت کے گھر تھانہ بھون تشریف لائے۔۔۔۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو اپنے استاد کے آنے پر اتنی خوشی ہوئی اور انکا اتنا اکرام کیا کہ ایک وقت میں دستر خوان پر 52 قسم کے کھانے تیار کرائے جب کھاناکھانے سے فارغ ہوئے تو اپنے استاد سے فرمایا کہ حضرت! میں نے یہ وقت بیان القرآن کی تالیف کیلئے مقرر کررکھا ہے اگر آپ کی طرف سے اجازت ہو تو کچھ دیر جاکر اپنا معمول پورا کرلوں۔۔۔۔ حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہاں‘ بھائی ضرور جائو۔۔۔۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں تالیف کے کام کیلئے بیٹھ گیا لیکن کام میں دل نہیں لگا‘ اس لئے کہ استاذ تشریف لائے ہوئے ہیں۔۔۔۔ ان کے پاس بیٹھنے کو دل چاہ رہاہے اس لئے دو تین سطریں لکھیں تاکہ ناغہ کرنے کی بے برکتی نہ ہو اور پھر استاد کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔۔۔۔ حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ارے بھائی! تم تو بہت جلدی آگئے؟ میں نے کہا کہ حضرت!کام میں دل ہی نہیں لگا میں نے سوچاکہ ناغہ نہ ہو‘ معمول پورا ہوجائے اس لئے دو تین سطر لکھ کر معمول پورا کرلیا اور حاضر ہوگیا۔۔۔۔ وہ بڑے بھی ایسے ہی تھے ایسے نہیں تھے کہ اس بات پرناراض ہوجاتے اور کہتے کہ لو ہم تو تمہارے پاس آئے اور تم تصنیف کرنے جارہے ہو؟ ۔۔۔۔یہ کیا بدتمیزی ہے؟ شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی کے استاد تھے اس لئے اجازت دیدی۔ (اصلاحی خطبات ج ۱۶ ص ۷۲)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

