حکیم الامت رحمہ اللہ کا اہلیہ کی دل جوئی کرنا

حکیم الامت رحمہ اللہ کا اہلیہ کی دل جوئی کرنا

شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ فرماتے ہیں
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی دو اہلیہ تھیں ۔۔۔۔ ایک بڑی اور ایک چھوٹی ۔۔۔۔ دونوں کو حضرت والا سے بہت تعلق تھا لیکن بڑی پیرانی صاحبہ پرانے وقتوں کی تھیں ۔۔۔۔ اور حضرت والا کو زیادہ سے زیادہ آرام پہنچانے کی فکر میں رہتی تھیں ۔۔۔۔ عید آنے والی تھی ۔۔۔۔ حضرت پیرانی صاحبہ کے دل میں خیال آیا کہ حضرت والا کے لیے کسی عمدہ اور اچھے کپڑے کا اچکن بنایا جائے۔۔۔۔ اس زمانے میں ایک کپڑا چلا کرتا تھا جس کا نام تھا ’’آنکھ کا نشہ‘‘ یہ بڑا شوخ قسم کا کپڑا ہوتا تھا۔۔۔۔ اب حضرت والا سے پوچھے بغیر کپڑا خرید کر اس کا اچکن سینا شروع کردیا ۔۔۔۔ اور حضرت والا کو اس خیال سے نہیں بتایا کہ اچکن سلنے کے بعد جب اچانک میں ان کو پیش کروں گی تو اچانک ملنے سے خوشی زیادہ ہوگی ۔۔۔۔ اور سارا رمضان اس کے سینے میں مشغول رہیں ۔۔۔۔ اس لیے کہ اس زمانے میں مشین کا رواج تو تھا نہیں ۔۔۔۔ ہاتھ سے سلائی ہوتی تھی ۔۔۔۔ چنانچہ جب وہ سل کر تیار ہوگیا تو عید کی رات کو وہ اچکن حضرت والا کی خدمت میں پیش کرکے کہا کہ میں نے آپ کے لیے یہ اچکن تیار کیا ہے ۔۔۔۔ میرا دل چاہ رہا ہے کہ آپ اس کو پہن کر عیدگاہ جائیں ۔۔۔۔اور عید کی نماز پڑھائیں ۔۔۔۔ اب کہاں حضرت والا کا مزاج ۔۔۔۔ اور کہاں وہ شوخ اچکن ۔
وہ تو حضرت والا کے مزاج کے بالکل خلاف تھا۔۔۔۔ لیکن حضرت فرماتے ہیں کہ اگر میں پہننے سے انکار کروں تو ان کا دل ٹوٹ جائے گا۔۔۔۔ اس لیے کہ انہوں نے تو پورا رمضان اس کے سینے میں محنت کی اور محبت سے محنت کی اس لیے آپ نے ان کا دل رکھنے کے لیے فرمایا تم نے تو یہ ماشاء اللہ بڑا اچھا اچکن بنایا ہے ۔۔۔۔ اور پھر آپ نے وہ اچکن پہنا اور عیدگاہ میں پہنچے اور نماز پڑھائی۔۔۔۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو ایک آدمی آپ کے پاس آیا ۔۔۔۔ اور کہا کہ حضرت آپ نے یہ جو اچکن پہنا ہے یہ آپ کو زیب نہیں دیتا ۔۔۔۔ اس لیے کہ یہ بہت شوخ قسم کا اچکن ہے ۔۔۔۔ حضرت نے جواب میں فرمایا کہ ہاں بھائی! تم بات تو ٹھیک کہہ رہے ہو ۔۔۔۔ اور یہ کہہ کر پھر آپ نے وہ اچکن اُتارا ۔۔۔۔ اور اسی شخص کو دے دیا کہ یہ تمہیں ہدیہ ہے ۔۔۔۔ اس کو تم پہن لو۔۔۔۔
اس کے بعد حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے یہ واقعہ میرے والد ماجد ۔۔۔۔حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو سنایا کہ ۔۔۔۔جس وقت میں یہ اچکن پہن کر عید گاہ کی طرف جارہاتھا تو کچھ نہ پوچھو کہ اس وقت میرا دل کٹ رہا تھا ۔۔۔۔اس لئے کہ ساری عمر اس قسم کا شوخ لباس کبھی نہیں پہنا لیکن دل میں اس وقت یہ نیت تھی ۔۔۔۔کہ جس اللہ کی بندی نے محنت کے ساتھ اس کو سیا ہے اس کا دل خوش ہوجائے ۔۔۔۔تو اس کا دل خوش کرنے کیلئے اپنے اوپر یہ مشقت برداشت کرلی اور اس کے پہننے پر طعنے بھی سہے ۔۔۔۔اس لئے کہ لوگوں نے اس کے پہننے پر طعنے بھی دئیے ۔۔۔۔کہ کیسا لباس پہن کر آگئے لیکن گھر والوں کا دل خوش کرنے کیلئے یہ کام کرلیا۔۔۔۔
بہر حال انسان اچھے سے اچھا لباس اپنا دل خوش کرنے کیلئے پہنے ۔۔۔۔اپنے گھر والوں کا دل خوش کرنے کیلئے پہنے ۔۔۔۔اور کسی ہدیہ اور تحفہ دینے والے کا دل خوش کرنے کیلئے پہنے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔۔۔۔لیکن اچھا لباس اس مقصد کیلئے پہننا تاکہ لوگ مجھے بڑا سمجھیں میں فیشن ایبل نظر آئوں ۔۔۔۔میں دنیا والوں کے سامنے بڑا بن جائوں اور نمائش اور دکھاوے کیلئے پہنے تو یہ عذاب کی چیز ہے ۔۔۔۔اور حرام ہے اس سے بچناچاہئے۔ (اصلاحی خطبات جلد ۵ ص ۲۹۰)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more