حکیم الامت رحمہ اللہ کا حلم و عفو

حکیم الامت رحمہ اللہ کا حلم و عفو

حکیم الامت رحمہ اللہ نے فرمایا ایک مرتبہ ایک قصاب کی درخواست پر میں جونپورگیا۔ انہیں کے مکان پر مہمان ہوا۔ وہاں میرے پاس ایک خط نظم میں پہنچا جس میں چار چیزیں میرے متعلق لکھی تھیں:۔
اول یہ کہ تم جاہل ہو
دوسرے یہ کہ تم جولاہے ہو
تیسرے یہ کہ تم کافر ہو
چوتھے یہ کہ وعظ کرنے بیٹھو تو پگڑی سنبھال کر بیٹھنا
میں نے کسی سے اس خط کا تذکرہ نہ کیا۔ اگلے روز جب وعظ کا وقت آیا تو منبر پر بیٹھ کر میں نے لوگوں سے کہا صاحبو! وعظ سے پہلے مجھے آپ سے ایک مشورہ کرنا ہے وہ یہ ہے کہ مجھے یہ خط ملا ہے اس میں چار چیزیں ہیں۔ پہلے جزو کے متعلق تو مجھے اس لئے کچھ کہنا نہیں ہے کہ یہ صاحب مجھے جاہل لکھتے ہیں اور میں خود اپنے اجہل ہونے کا معترف ہوں۔ اسی طرح دوسرے جز کے متعلق بھی کچھ کہنا نہیں ہے کیونکہ اول تو جولاہا (کپڑا تیار کرنے والا) ہونا کوئی عیب نہیں اور اگر کسی درجہ میں ہو بھی تو وہ غیر اختیاری امر ہے جیسے کوئی اندھا یا کانا ہو تو مآل اس کا بھی یہی ہے کہ یہ کوئی قابل بحث بات نہیں۔
دوسرے یہ کہ میں یہاں کوئی شادی کرنے تو نہیں آیا کہ میں نسب کی تحقیق کرائوں۔ تیسرے یہ کہ اگر کسی کو بلا وجہ میرے نسب ہی کی تحقیق کرنا ہو تو میں اپنی زبانی سے کیا ہوں میرے وطن کا پتہ اور وہاں کے عمائد کے نام دریافت کر کے ان سے تحقیق کرلیں کہ میں جولاہاہوں یا کون؟ اسی طرح تیسرے جز کے متعلق بھی مجھے مشورہ کرنا نہیں ہے کیونکہ پچھلی حالت کے متعلق مجھے بحث کرنے کی ضرورت نہیں کہ میں کافر تھایا مسلمان میں اس وقت سب کے سامنے کلمہ پڑھتا ہوں ’’ اشھد ان لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ‘‘۔ اب تو میں مسلمان ہوگیا اور جب تک ایمان کے خلاف کوئی بات مجھ سے ظاہر نہ ہو اس وقت تک مسلمان ہی کہا جائے گا۔ البتہ چوتھے جزو کے متعلق مجھے آپ حضرات سے مشورہ کرنا ہے وہ یہ ہے کہ وعظ میں میرا معمول ہمیشہ سے یہ ہے کہ بالقصد اختلافی مسائل بیان نہیں کرتا۔ بلکہ حتی الامکان ان سے بچتا ہوں لیکن اگر دوران تقریر میں کہیں آ جاتے ہیں تو پھر رکتا بھی نہیں ۔ البتہ عنوان نرم اور ایسے الفاظ کا اہتمام کرتا ہوں کہ دل آزار نہ ہوں ۔ اب اگر وعظ کہوں گا تو اسی آزادی کے ساتھ کہوںگا اس کا نتیجہ پھر جو کچھ بھی ہو اس لئے مشورہ طلب یہ امر ہے کہ وعظ گوئی کوئی میرا پیشہ تو ہے نہیں اور مجھے شوق بھی نہیں۔ لوگوں کی درخواست پر کہہ دیتا ہوں۔ اب اگر آپ سب حضرات درخواست کریں اور مشورہ دیں تو میں کہوں ورنہ چھوڑ دوں۔
پھر فرمایا آپ کو مشورہ میں مدد دینے کے لئے میں خود اپنی رائے بھی ظاہر کئے دیتا ہوں وہ یہ کہ وعظ تو ہونے دیا جاوے اور غالباً وہ صاحب بھی اس مجمع میں موجود ہوں گے جن کا یہ خط ہے ۔ تو وہ جس جگہ کوئی ناگوار بات محسوس کریں اسی وقت مجھے روک دیں ۔ میں اسی وقت وعظ بند کردوں گا۔یا اگر اس میں ان کو کچھ حجاب مانع ہو تو میں آج بعد ظہر مچھلی شہر چلا جائوں گا۔ میرے جانے کے بعد میرے وعظ کی خوب تردید کردیں یہ کہہ کر میں خاموش ہوگیا اور لوگوں سے کہا کہ اپنی رائے بیان کریں۔ چاروں طرف سے آوازیں آئیں کہ آپ ضرور وعظ کہیں اور آزادی سے کہیں۔
میں نے وعظ کہا اور حسب عادت ترغیب و ترہیب اور اصول شرعیہ بیان کئے پھر ضمناً بعض فروع کی بحث آئی تو اتفاقاً اس میں بدعات اور رسوم کا بھی ذکر آگیا تو خوب کھل کر بیان کیا۔ تمام مجمع محو حیرت تھا ختم وعظ کے بعد جونپور کے ایک مشہور مولوی صاحب نے اتنا کہا کہ مولانا ان چیزوں کی تو حاجت نہ تھی۔ میں نے نہایت بے تکلفی کے ساتھ کہا کہ مجھے اس کی خبر نہ تھی میں نے تو حاجت سمجھ کر بیان کیا اگر آپ مجھے وقت پر متنبہ فرما دیتے تو میں نہ بیان کرتا۔ اب تو بیان ہو چکا اب اس کا کوئی اور تدارک بجز اس کے نہیں کہ آپ دوسرے وقت اس کی تردید فرما دیں اور اسی مجلس میں اعلان فرما دیں کہ فلاں وقت اس وعظ کی تردید کی جائے گی میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں اس پر کچھ نہ بولوں گا۔
مولانا عبدالاول صاحب جوجونپور کے فضلاء میں سے تھے وہ کھڑے ہو ئے اور مولوی صاحب کو ملامت کی کہ آپ ایسی ہی باتیں کیا کرتے ہیں اور پھر اعلان کے ساتھ فرمایا کہ صاحبو ! آپ سب جانتے ہیں کہ میں مولودیہ ہوں قیامیہ ہوں لیکن حق بات وہی ہے جو مولانا نے فرمائی ہے اس کے بعد وہ مجھے اپنے مکان پر لے گئے اور اپنے پاس مہمان رکھا۔(مجالس حکیم الامت )

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more