حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کے حلم کا بے نظیر واقعہ

حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کے حلم کا بے نظیر واقعہ

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ (م ۱۴۰۳ھ؍۱۹۸۳ء) تحریر فرماتے ہیں۔’’ اس سلسلہ میں مجھ تک جو واقعہ پہنچا ہے وہ عرض کرتا ہوں، مجھ سے حکیم بنیاد علی صاحب مرحوم ساکن لاوڑ ضلع میرٹھ نے بیان کیا اور انہوں نے یہ واقعہ حضرت مولانا عبدالغنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ ساکن پھلا ودہ ضلع میرٹھ سے سنا جو حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے مخصوص تلامذہ میں ایک زبردست عالم تھے۔
حضرت مولانا عبدالغنی صاحب نے فرمایا کہ جب حضرت نانوتویؒ مباحثہ شاہجہان پور کے لئے روانہ ہوئے تو شاہجہان پورکے قریب کسی گائوں کے چند غریب سنیوں نے (جو مقامی شیعوں کے اثرات میں دبے ہوئے بے بس تھے۔ کیونکہ زمیندار ہ شیعوں ہی کا تھا) حضرت کو لکھا کہ جاتے یا آتے حضرت والا اس گائوں کو اپنے قدوم سے عزت بخشیں اور ہمیں کچھ پندو نصیحت فرمادیں۔ تاکہ ہمارے لئے اصلاح و فلاح اور تقویت کا باعث ہو۔
حضرت والا نے بخوشدلی ان کی دعوت منظور فرمالی۔ جیسا کہ غرباء کی دعوت و پیشکش بطوع و رغبت قبول فرمانے کی عادت تھی۔ اور جاتے یا آتے ہوئے اس گائوں میں اترتے۔ شیعوں میں اس سے کھلبلی مچی۔ فکر یہ تھا کہ ایسا نہ ہو کہ ان کے وعظ کا اثر شیعوں پر ہو جائے اور شیعہ دبائو کی تنظیم ٹوٹ جائے تو انہوں نے متوقع اثرات کی کاٹ کے لئے لکھنؤ سے چار شیعہ مجتہد تاریخ مقررہ پر بلائے اورپروگرام یہ طے پایا کہ مجلس وعظ میں چاروں کونوں پر یہ چاروں مجتہد بیٹھ جائیں اور چالیس اعتراضات منتخب کرکے دس دس اعتراض چاروںپر بانٹ دیے گئے کہ اثنائے وعظ میں اس طرح کئے جائیںکہ اول فلاں سمت کا مجتہد دس اعتراض کرے اس سے حضرت نمٹیں تو دوسرے کونہ کا اور پھر اسی طرح تیسرے اور چوتھے کونہ کا۔ اور اس طرح وعظ نہ ہونے دیا جائے۔ ان ہی اعتراض وجواب میں مبتلا کرکے وقت ختم کردیا جائے۔
اب غیبی مدد اور حضرت والا کی کرامت کا حال سنئے کہ حضرت نے وعظ شروع فرمایا۔ جس میں گائوں کی تمام شیعہ برادری بھی جمع تھی اور وہ وعظ اسی ترتیب سے اعتراضوں کے جواب پر مشتمل شروع ہوا جس ترتیب سے اعتراضات لے کر مجتہدین بیٹھے تھے۔ گویا ترتیب کے مطابق جب کوئی مجتہد اعتراض کرنے کے لئے گردن اٹھاتا تو حضرت اسی اعتراض کو خود نقل کرکے جواب دینا شروع فرماتے۔ یہاں تک کہ وعظ پورے سکون کے ساتھ پورا ہو گیا اور شیعوں کے ان مقررہ شبہات کے مکمل حل سے گائوں کے شیعہ اس قدر مطمئن ہوئے کہ اکثریت نے توبہ کرلی اور سنی ہوگئے۔
مجتہدین اور مقامی شیعہ چوہدریوں کو اس میں اپنی انتہائی سبکی اور خفت محسوس ہوئی تو انہوں نے حرکت مذبوحی کے طور پر اس شرمندگی کو مٹانے اور حضرت والا کے اثرات کا ازالہ کرنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ ایک نوجوان لڑکے کا فرضی جنازہ بنایا اور حضرت سے آکر عرض کیاکہ حضرت نماز جنازہ آپ پڑھادیں۔
پروگرام یہ تھا کہ جب حضرت دو تکبیریں کہہ لیں تو صاحب جنازہ اک دم اٹھ کھڑا ہو، اور اس پر حضرت کے ساتھ استہزاء و تمسخر کیا جائے۔ حضرت والا نے معذرت فرمائی کہ آپ لوگ شیعہ ہیں اور میں سنی۔ اصول نماز الگ الگ ہیں۔ آپ کے جنازہ کی نماز مجھ سے پڑھوانے میں جائز کب ہوگی؟
شیعوں نے کہا کہ حضرت بزرگ ہر قوم کا بزرگ ہی ہوتا ہے آپ تو نماز پڑھا ہی دیں۔ حضرت نے ان کے اصرار پر منظور فرمالیا۔ اور جنازہ پر پہنچ گئے۔ مجمع تھا۔ حضرت ایک طرف کھڑے ہوئے تھے کہ چہرہ پر غصہ کے آثار دیکھے گئے۔ آنکھیں سرخ تھیں اور انقباض چہرہ سے ظاہر تھا۔ نماز کے لئے عرض کیا گیا تو آگے بڑھے اور نماز شروع کی۔ دو تکبریں کہنے پر جب طے شدہ کے مطابق جنازہ میں حرکت نہ ہوئی تو پیچھے سے کسی نے ’’ہونھ‘‘ کے ساتھ صاحب جنازہ کو اٹھ کھڑے ہونے کی سسکار دی۔ مگر وہ نہ اٹھا۔ حضرت نے تکبیرات اربعہ پوری کرکے اسی غصے کے لہجہ میں فرمایا کہ ’’اب یہ قیامت کی صبح سے پہلے نہیں اٹھ سکتا۔‘‘ دیکھا گیاتو مر دہ تھا۔ شیعوں میں رونا پیٹنا پڑ گیا، اور بجائے حضرت والا کی سُبکی کے خود ان کی سبکی اور سبکی ہی نہیں سب کی موت آگئی۔ اس کرامت کو دیکھ کر باقی ماندہ شیعوں میں سے بھی بہت سے تائب ہو کر سنی ہوگئے۔ ‘‘(جواہر پارے)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more