حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوری رحمہ اللہ
حضرت اقدس شیخ المشائخ مولانا الحاج احمد علی صاحب محدث سہارنپوری۔۔۔ بخاری۔۔۔ ترمذی کتب حدیث کے محشی اور مشہور عالم محدث ہیں۔۔۔ جب مظاہر علوم کی قدیم تعمیر کے چندہ کے سلسلہ میں کلکتہ تشریف لے گئے کہ وہاں مولانا کا اکثر قیام رہا ہے اور وہاں کے لوگوں سے و سیع تعلقات تھے تو مولانا مرحوم نے سفر سے واپسی پر اپنے سفر کی آمدوخرچ کا مفصل حساب مدرسہ میں داخل کیا تووہ رجسٹر میں (مولانا زکریا شیخ الحدیث رحمہ اللہ سہارنپور) نے خود پڑھا اس میں ایک جگہ لکھا تھا کہ کلکتہ میں فلاں جگہ میں اپنے ایک دوست سے ملنے گیا تھا۔۔۔ اگرچہ وہاں چندہ خوب ہوا لیکن میرے سفر کی نیت دوست سے ملنے کی تھی چندہ کی نہیں تھی اس لئے وہاں کی آمدورفت کا اتنا کرایہ حساب سے وضع (کاٹ) کر لیا جائے۔۔۔(یاد ایام ص ۲۷۔۔۔ از شیخ الحدیث)
حضرت مولانا احمد علی صاحب محدث سہارنپوری رحمہ اللہ نے بخاری شریف پر جو حاشیہ لکھا ہے اس میں آخری چار پارے کے حواشی حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے لکھے ہوئے ہیں۔۔۔ انہی کا واقعہ ہے کہ ایک بار مولانا احمد علی صاحب رحمہ اللہ کہیں جا رہے تھے آپ کے ساتھ کچھ شاگرد اور متوسلین بھی تھے۔۔۔ راستہ میں ایک دیہاتی نے ان (کی سادہ وضع) کو دیکھ کر کہا:۔۔۔’’ڈاکوئوں کا گروہ جا رہا ہے۔۔۔‘‘
شاگردوں نے انہیں مارنا چاہا مگر آپ نے سختی سے منع کر دیا اور گھر واپس آ کر بکس کھولا جس میں سینکڑوں خطوط تھے۔۔۔ اور ان میں بڑے شاندار الفاظ میں مولانا کو خطاب کیا گیا تھا لوگوں کو دکھلایا پھر فرمایا کہ:۔۔۔
’’اتنے آدمی اگر ایسا سمجھتے ہیں اور اگر ایک شخص یا چند آدمی ایسا سمجھتے ہیں تو برا ماننے کی کونسی بات ہے۔۔۔‘‘ (ماہنامہ الفرقان لکھنؤ ص ۳۰۔۔۔ اگست ۱۹۷۷ء)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

