حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کے اخلاص کا واقعہ

حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کے اخلاص کا واقعہ

شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن صاحب قدس اللہ سرہ، جو دارالعلوم دیوبند کے پہلے طالب علم ہیں، جن کے ذریعہ دارالعلوم دیوبند کا آغاز ہوا، اللہ تعالیٰ نے ان کو علم میں ، تقویٰ میں، معرفت میں بہت اونچا مقام بخشا تھا۔ جس زمانے میں آپ دارالعلوم دیوبند میں شیخ الحدیث تھے، اس وقت آپ کی تنخواہ ماہانہ دس روپے تھی، پھر جب آپ کی عمر زیادہ ہو گئی اور تجربہ بھی زیادہ ہو گیا، تو اس وقت دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ نے یہ طے کیا کہ حضرت والا کی تنخواہ بہت کم ہے۔ جبکہ آپ کی عمر زیادہ ہو گئی ہے۔ ضروریات بھی زیادہ ہیں، مشاغل بھی زیادہ ہیں، اس لئے تنخواہ بڑھانی چاہئے۔ چنانچہ مجلس شوریٰ نے یہ طے کیا کہ اب آپ کی تنخواہ دس روپے کے بجائے پندرہ روپے ماہانہ کر دی جائے، جب تنخواہ تقسیم ہوئی تو حضرت والا نے یہ دیکھا کہ اب دس کے بجائے پندرہ روپے ملے ہیں۔ حضرت والا نے پوچھا کہ یہ پندرہ روپے مجھے کیوں دئیے گئے۔ لوگوں نے بتایا کہ مجلس شوری نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آپ کی تنخواہ دس روپے کے بجائے پندرہ روپے کر دی جائے، آپ نے وہ تنخواہ لینے سے انکار کر دیا، اور دارالعلوم دیوبند کے مہتمم صاحب کے نام ایک درخواست لکھی کہ حضرت! آپ نے میری تنخواہ دس روپے کے بجائے پندرہ روپے کر دی ہے۔ حالانکہ اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں، پہلے تو میں نشاط کے ساتھ دو تین گھنٹے سبق پڑھا لیتا تھا۔ اور اب تو میں کم پڑھاتا ہوں۔ وقت کم دیتا ہوں۔ لہٰذا میری تنخواہ میں اضافے کا کوئی جواز نہیں، لہٰذا جو اضافہ آپ حضرات نے کیا ہے یہ واپس لیا جائے۔ اور میری تنخواہ اسی طرح دس روپے کر دی جائے۔
لوگوں نے آ کر حضرت والا سے منت سماجت شروع کر دی کہ حضرت! آپ تو اپنے تقویٰ اور ورع کی وجہ سے اضافہ واپس کر رہے ہیں۔ لیکن دوسرے لوگوں کے لئے یہ مشکل ہو جائے گی کہ آپ کی وجہ سے ان کی ترقیاں رک جائیں گی۔ لہٰذا آپ اس کو منظور کر لیں۔ مگر انہوں نے اپنے لئے اس کو گوارا نہ کیا، کیوں؟ اس لئے کہ ہر وقت یہ فکر لگی ہوئی تھی کہ یہ دنیا تو چند روز کی ہے۔ خدا جانے آج ختم ہو جائے۔ یا کل ختم ہو جائے۔ لیکن یہ پیسہ جو میرے پاس آ رہا ہے، کہیں یہ پیسہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر وہاں شرمندگی کا سبب نہ بن جائے۔
دارالعلوم دیوبند عام یونیورسٹی کی طرح نہیں تھا کہ استاذ نے سبق پڑھا دیا۔ اور طالب علم نے سبق پڑھ لیا۔ بلکہ وہ ان ادائوں سے دارالعلوم دیوبند بنا ہے، اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کی فکر سے بنا ہے۔ اس ورع اور تقویٰ سے بنا ہے۔ لہٰذا یہ اوقات جو ہم نے بیچ دئیے ہیں۔ یہ امانت ہیں۔ اس میں خیانت نہ ہونی چاہئے۔(جدید مسائل کا حل)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more