حکمت بھری تبلیغ کا عجیب واقعہ
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ کی خدمت میں ایک گنوار شخص آیا اور کہا کہ مولوی جی مجھے مرید کرلو حضرت نے فرمایا اچھا بھائی آئو مرید کرتے ہوئے جو جو باتیں کہلواتے ہیں مثلاً نمازپڑھو ۔۔۔۔۔ روزہ رکھو سب کچھ کہلوالیا جب مولانا اپنی باتیں پوری فرما چکے تو اس نے کہا کہ:۔۔۔۔۔
’’ مولوی جی !تم نے افیون سے تو توبہ کرائی نہیں ‘‘
حضرت نے فرمایا کہ :’’ بھائی ! مجھے کیا خبر کہ تو افیون بھی کھاتا ہے ‘‘۔
حضرت گنگوہی ؒ چونکہ طبیب تھے اور جانتے تھے کہ ایک دم افیون کا چھوڑنا مشکل ہے اورطالب کی حالت کی رعایت ضروری ہے اس لئے آپ نے فرمایا کہ کتنی افیون کھایا کرتے ہو میرے ہاتھ پر رکھ دو اس نے گولی بناکر حضرت کے ہاتھ پر رکھ دی ۔۔۔۔۔ حضرت نے اس میں سے کچھ کم کرکے باقی اس کو دے دی اور فرمایا کہ اتنی کھالیا کرو۔۔۔۔۔ بعد میں پھر مشورہ کرلینا ۔۔۔۔۔ وہ شخص کچھ دیر خاموش بیٹھ کر کہنے لگا :۔۔۔۔۔
’’ اجی مولوی جی !جب تو بہ ہی کرلی تو پھر اتنی اور اتنی کیا‘‘
یہ کہہ کر افیون کی ڈبیہ نکال کر دیوار پر ماری اور یہ کہا کہ :’’ اری افیون ! جا میں نے تجھے چھوڑ دیا ‘‘۔
بس یہ کہہ کر چلا گیا نہ ذکر پوچھا نہ شغل افیون کے چھوڑنے سے دست آنے لگے اس نے کہلاکر بھیجا کہ :’’ مولوی جی !دعا کر دیجیئو کہ میں اچھا ہوجائوں مگر افیون نہ کھائونگا ‘‘۔
غرض بری حالت تک نوبت پہنچی مرتے مرتے بچا مگر اچھا ہوگیا تندرست ہوکر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت نے پوچھا کون ؟ اس نے بتایا میں افیون والا ہوں اور سارا قصہ بیان کیا اس کے بعد دو روپے پیش کئے مولانا نے کسی قدر عذر کے بعد دل جوئی کی غرض سے قبول فرمالئے۔۔۔۔۔ اس نے کہا :۔۔۔۔۔
’’ اجی مولوی جی یہ تم نے پوچھا ہی نہیں کہ یہ کیسے روپے ہیں ‘‘
مولانا نے فرمایا کہ بھائی !اب بتلادے کیسے روپے ہیں اس نے کہا کہ یہ روپے افیون کے ہیں حضرت نے پوچھا کہ افیون کے کیسے ہیں اس نے بتایا کہ :۔۔۔۔۔
۔’’ میں دو روپے مہینے کی افیو ن کھایاکرتا تھا جب میں نے افیون سے توبہ کی تو نفس بڑا خوش ہواکہ اب دو روپے ماہوار بچیں گے ۔۔۔۔۔
میں نے کہا یہ تو دین میں دنیا مل گئی بس میں نے نفس سے کہا کہ یہ یاد رکھ کر یہ روپیہ تیرے پاس نہ چھوڑوں گا ۔۔۔۔۔ یہ مت سمجھ کہ تجھے دوں گا بلکہ اسی وقت نیت کرلی کہ جتنے روپے کی افیون کھایا کرتا تھا وہ پیر کو دیا کروں گا پس یہ دوروپیہ ماہوار آپ کے پاس آیا کریں گے ‘‘۔
ف: یہ گنوارکی حکایت ہے جس کولکھناپڑھنا کچھ نہ آتا تھا مگر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ کی صحبت کی برکت سے دین کی سمجھ ایسی تھی کہ دین میں دنیا کی آمیزش کوفوراً سمجھ گیا۔۔۔۔۔ یہ وہ بات ہے کہ اچھے اچھوںکی بھی سمجھ میں نہیں آتی۔۔۔۔۔ (وعظ خیر المال للرجال ص ۲۴)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

