کوئی تدبیر ۔۔۔ موت کو ٹال نہیں سکتی
حضرت مجاہد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے کہ اگلے زمانے میں ایک عورت حاملہ تھی جب اسے درد ہونے لگا اور بچی پیدا ہوئی تو اس نے اپنے ملازم سے کہا کہ جائو کہیں سے آگ لے آئو۔۔۔ وہ باہر نکلا تو دیکھا کہ دروازے پر ایک شخص کھڑا ہے‘ پوچھتا ہے کہ کیا ہوا لڑکی یا لڑکا؟ اس نے کہا لڑکی ہوئی ہے۔۔۔ کہا سنو یہ لڑکی اچھی ثابت نہیں ہو گی پھر اس کے وہاں اب جو شخص ملازم ہے اسی سے اس کا نکاح ہوگا اور ایک مکڑی اس کی موت کا باعث بنے گی۔۔۔ وہ ملازم یہیں سے پلٹ آیا اور آتے ہی ایک تیز چھری لے کر اس لڑکی کے پیٹ کو چیر ڈالا اور اسے مردہ سمجھ کر وہاں سے بھاگ نکلا۔۔۔ اس کی ماں نے یہ حال دیکھا تو اپنی بچی کے پیٹ میں ٹانکے لگادیئے اور علاج کیا جس سے اس کا زخم بھرگیا۔۔۔ اب ایک زمانہ گزر گیا۔ اُدھر یہ لڑکی بلوغت کو پہنچ گئی اور تھی بھی اچھی شکل و صورت کی‘ بدچلنی میں پڑگئی۔۔۔
ادھر وہ ملازم سمندر کے راستے کہیں چلا گیا کام کاج شروع کیا اور بہت رقم پیدا کی‘ تمام مال سمیٹ کر بہت مدت بعد یہ پھر اسی اپنے گائوں میں آگیا اور ایک بڑھیا عورت کو بلا کر کہا کہ میں نکاح کرنا چاہتا ہوں‘ گائوں میں جو بہت خوبصورت عورت ہو اس سے میرا نکاح کرادو۔۔۔ یہ عورت گئی اور چونکہ شہر بھر میں اس لڑکی سے زیادہ خوش شکل کوئی عورت نہ تھی یہیں پیغام دیا جو منظور ہوگیا‘ نکاح بھی ہوگیا اور رخصت ہوکر یہ اس کے یہاں آبھی گئی۔۔۔
دونوں میاں بیوی میں بہت محبت ہوگئی۔۔۔ ایک دن اس عورت نے اس سے پوچھا آخر آپ کون ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ یہاں کیسے آگئے؟ وغیرہ۔۔ اس نے اپنا تمام ماجرا بیان کردیا کہ میں یہاں ایک عورت کے پاس ملازم تھا‘ وہاں سے اس کی لڑکی کو زخمی کرکے بھاگ گیا تھا‘ اب اتنے برسوں بعد یہاں آیا ہوں تو اس لڑکی نے کہا جس کا پیٹ چیر کر تم بھاگے تھے میں وہی ہوں۔۔۔ یہ کہہ کر اپنے اس زخم کا نشان بھی اسے دکھایا‘ تب تو اسے یقین آگیا اور کہنے لگا جب تو وہی ہے تو ایک بات تیری نسبت مجھے اور بھی معلوم ہے وہ یہ کہ تو بدچلن ہیـ۔۔۔ اس نے کہا ٹھیک ہے یہ کام تو مجھ سے ہوا ہے لیکن گنتی یاد نہیں۔
اس نے کہا کہ مجھے تیری نسبت ایک اور بات بھی معلوم ہے وہ یہ کہ تیری موت کا سبب ایک مکڑی بنے گی خیر چونکہ مجھے تجھ سے بہت زیادہ محبت ہے میں تیرے لیے ایک بلند و بالا پختہ اور اعلیٰ محل تعمیر کرادیتا ہوں۔۔۔ اسی میں تو رہ‘ تاکہ وہاں تک ایسے کیڑے مکوڑے پہنچ ہی نہ سکیں۔۔ چنانچہ ایسا ہی محل تعمیر ہوا اور یہ وہاں رہنے لگی۔۔۔ ایک مدت کے بعد ایک روز دونوں میاں بیوی بیٹھے تھے کہ اچانک چھت پر ایک مکڑی دکھائی دی۔۔۔ اسے دیکھتے ہی اس شخص نے کہا دیکھو! آج یہاں مکڑی دکھائی دی‘ عورت بولی اچھا یہ میری جان لیوا ہے؟ غلام کو حکم دیا کہ اسے زندہ پکڑ کر میرے سامنے لائو۔۔۔وہ پکڑ کر لایا‘ اس نے زمین پر رکھ کر اپنے پیر کے انگوٹھے سے اسے مل ڈالا اور اس کی جان نکل گئی اس سے جو پیپ نکلا اس کا ایک آدھ قطرہ اس کے انگوٹھے کے ناخن اور گوشت کے درمیان اُڑ کر پڑا۔۔۔ اس کا زہر چڑھا۔۔۔ پیر سیاہ پڑگیا اور وہ اسی میں مرگئی۔۔۔ (تفسیر ابن کثیر)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

