طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ کی بیماری

طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ کی بیماری

حضرت طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پائوں چومنے لگے اور کہنے لگے یا رسول اللہ کوئی کلمہ تو بتا دیں کہ میں اس کو پورا کرکے آپ کو راضی کروں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں راضی ہوں کہا کچھ تو فرمائیے یہ جو بڑے آفیسروں سے تعلق قائم کرتے ہیں تو بار بار کہتے ہیں کہ سر کوئی خدمت ہو تو بتائیے کوئی خدمت تو بتائیے حالانکہ یہ ان سے چھوٹا ہے کیا کرنا ہے آگے کوئی کام بھی نکالنا ہے چاہے جائز یا ناجائز یہاں بھی کوئی اور نقشہ ہو رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی کام تو بتائیے کیوں؟ تاکہ آپ راضی ہو جائیں تو اللہ بھی راضی ہوگا‘ یا رسول اللہ کوئی خدمت تو بتائیے۔
آپ فرما رہے ہیں کیا بتائوں بھائی میں تو راضی ہوں اور خوش ہوں نہیں نہیں کچھ تو بتائیے نہیں چھوڑ رہا پائوں پکڑا ہوا ہے اور چومتے جا رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا‘ ان کا امتحان لیا کہا کہ جائو ماں کا سر لے کر آئو‘ یہ آج کا زمانہ نہیں تھا کہ ماں باپ سے نوکروں جیسا سلوک ہو جائے۔
یہ وہ زمانہ تھا جہاں ماں باپ کے لیے گردنیں کٹ جاتی تھیں‘ ہاں باتوں سے بات نکل آتی ہے۔ بخاری شریف میں جو دوسری روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے پوچھا کہ قیامت کی نشانی تو بتائیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو گے کہ مائیں جو ہیں ان کے ساتھ نوکرانیوں جیسا سلوک ہوگا۔ ماں نوکر سے بھی کم درجے میں چلی جائے گی تو سمجھ لو قیامت کا ڈنکا بجنے والا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جائو ماں کا سر لے کر آئو تو یہ اٹھے اور تلوار لے کر بھاگے جیسے کہ کسی کافر کا سر لینے کے لیے جا رہے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ان کے پیچھے دوڑایا کہ ارے بھائی! بلائو ‘ بلائو کہا میں تو جوڑنے آیا ہوں توڑنے نہیں آیا صرف میں تمہیں دیکھ رہا تھا کہ تم کہاں تک ہو۔
پھر یہ جب ہوگئے بیمار وہ جگہ میں دیکھ کر آیا ہوں جہاں وہ بیمار ہوئے اور ان کا انتقال ہوا مدینہ منورہ میں اب بھی اس جگہ کی نشانی موجود ہے لیکن ہر ایک کو پتہ نہیں چلتا۔ لیکن جو مدینہ کے آثار جاننے والے ہیں وہ بتا سکتے ہیں۔ جب میں وہاں گیا اس وقت وہ مسجد نبوی سے چار پانچ میل کا فاصلہ تھا جب حضرت طلحہ بیمار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حال پوچھنے کے لیے آئے تو راستہ میں یہود کا قبیلہ بنو قریظہ رہتا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو دیکھ کر فرمایا کہ لگتا ہے کہ یہ بچے گا نہیں جب ان کا انتقال ہو جائے تو مجھے بلا نا میں ا ن کی نماز جنازہ پڑھائوں گا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واپس آنے کے بعد حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو ہوش آگیا کہنے لگے اللہ کے رسول آئے تھے کہا ہاں‘ کیا کہا تھا کہا گیا کہ یہ کہا تھا کہنے لگے نہ نہ ان کو نہ بلانا جب میں مر جائوں ان کو مت بلانا۔ راستہ میں یہودی ہیں رات کا وقت ہوگا کوئی تکلیف پہنچا دیں۔ تو ایسا کرنا جب میں مر جائوں تو دفن کرکے فجر کی نماز وہاں جا کر پڑھ لینا اور پھر بتا دینا وہ جس مسجد میں نماز پڑھتے تھے وہ مسجد ابھی اس کے آثار کھڑے ہیں جب ان کا انتقال ہوا تو ان کی تجہیز و تکفین کرتے کرتے فجر ہوگئی تو ان کی میت لے کر جنت البقیع آئے اور فجر سے پہلے پہلے ان کو دفن کر دیا پھر فجر کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ یا رسول اللہ طلحہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا کہا اللہ تمہارا بھلا کرے میں نے کہا تھا کہ میں جنازہ پڑھائوں گا کہا انہوں نے ہمیں منع کیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف نہ ہو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قبر پر جا کر ہاتھ اٹھائے اللھم ان انتقل طلحہ تضحک الیک ویضحک الیک یا اللہ جب طلحہ تیرے دربار میں پیش ہو تو اسے دیکھ کر تو مسکرا رہا ہو اور وہ تمہیں دیکھ کر مسکرا رہا ہو یہ دعا دی ہے۔(اصلاحی واقعات ص ۲۸۷)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more