وہ اپنی ذات کے لیے تھا اور یہ اللہ کے لیے ہے
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک سائل آیا‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگنے آیا تھا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جائو‘ عثمان رضی اللہ عنہ سے مانگنے گیا۔ وہ بیوی سے لڑرہے تھے‘ کس بات پر؟یوں کہہ رہے تھے۔
اللہ کی بندی! رات تونے چراغ میں بتی موٹی ڈالی تھی‘ وہ بتی ڈالتے تھے روئی کی‘ تو تیل زیادہ جل گیا‘ تویہ کہنے لگے یہ کس کنجوس کے پاس بھیج دیا‘ جو بیوی سے لڑ رہا ہو‘ کیوں تو نے بتی موٹی ڈالی ہے‘ تو یہ مجھے دے گا‘ مجھے تویہ دمڑی بھی نہ دے گا۔
جب ان کو باہر بلایا اور خیرات مانگی‘ کہا وہاں سے آیا ہوں‘ تو اندر گئے اور ایک تھیلی اٹھائی نہ پوچھا کہ کتنے چاہئے نہ پوچھا کہ کون ہو؟ تین ہزار درہم اٹھا کے دے دئیے۔
وہ حیران ہو کے کہنے لگا‘ ایک بات تو بتائو کہا کیا؟
کہا یہ مجھے تو تونے اتنے دے دئیے کہ میری اگلی نسل کو بھی کافی ہیں‘ او رخود بیوی سے لڑ رہا تھا کہ بتی موٹی کیوں کر دی؟
کہنے لگے‘ وہ اپنی ذات پر خرچ تھا‘ وہ پھونک پھونک کر کرنا ہے‘ یہ اللہ کو دے رہا ہوں۔ جتنا مرضی دے دوں۔ یہ تجھے تھوڑی دے رہا ہوں‘ اللہ کو دے رہا ہوں۔(اصلاحی واقعات ص ۶۱)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

