ایک عجیب صابر و شاکر شخص
مشہور تابعی حضرت عروہ بن زبیر مصائب و تکالیف پر بہت صبر کرنے والے تھے ۔۔۔۔ صبر و استقامت کے پیکر تھے ۔۔۔۔ ایک مرتبہ ولید بن یزید سے ملنے دمشق روانہ ہوئے تو راستے میں چوٹ لگ کر پائوں زخمی ہو گیا ۔۔۔۔ درد کی شدت سے چلنا دوبھر ہو گیا ۔۔۔۔ سخت تکلیف کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور دمشق پہنچ گئے ۔۔۔۔ ولید نے فوراً طبیبوں کو بلوا بھیجا ۔۔۔۔ انہوں نے زخم کا بغور جائزہ لینے کے بعد پائوں کاٹنے کی رائے پر اتفاق کیا ۔۔۔۔ حضرت عروہ کو جب اس کی اطلاع کی گئی تو انہوں نے منظور کر لیا مگر پائوں کاٹنے سے پہلے بے ہوشی کے لئے نشہ آور دوا کے استعمال سے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ میں کوئی لمحہ اللہ کی یاد سے غفلت میں نہیں گزار سکتا ۔۔۔۔ چنانچہ اسی حالت میں آرہ گرم کر کے ان کا پائوں کاٹ دیا گیا اور انہوں نے کسی قسم کی تکلیف کا اظہار نہ کیا ۔۔۔۔ پھر اپنا کٹا ہوا پائوں سامنے رکھ کر فرمایا ۔۔۔۔ ’’کیا غم ہے اگر مجھے ایک عضو کے بارے میں آزمائش میں ڈال کر باقی اعضاء کے سلسلے میں امتحان سے بچا لیا گیا ہے‘‘ ابھی وہ اتنا ہی کہہ پائے تھے کہ انہیں خبر ملی ’’ان کا ایک بیٹا چھت سے گر کر انتقال کر گیا ہے‘‘ انہوں نے ’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘ پڑھی ۔۔۔۔
اورفرمایا ’’اللہ تیرا شکر ہے کہ تُو نے ایک جان لی اور کئی جانوں کو سلامت رکھا‘‘ (کیونکہ باقی بیٹے سلامت تھے) ۔۔۔۔
اس واقعہ کے بعد ولید کے پاس قبیلہ عبس کے کچھ لوگ آئے جن میں ایک بوڑھا اور آنکھوں سے اندھا شخص بھی تھا ۔۔۔۔ ولید نے اس سے اس کا حال پوچھا اور اس کی بینائی کے ختم ہونے کا سبب دریافت کیا تو وہ بتانے لگا:’’میں اپنے اہل و عیال اور تمام مال و اسباب لئے ایک قافلے کے ساتھ سفر میں نکلا ۔۔۔۔ اہل قافلہ میں سے شاید ہی کسی کے پاس اتنا مال ہو جتنا میرے پاس تھا ۔۔۔۔ ہم نے ایک پہاڑ کے دامن میں رات گزارنے کے لئے پڑائو ڈالا ۔۔۔۔ آدھی رات کے وقت جب سب میٹھی نیند سو رہے تھے خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اچانک سیلاب آ گیا جو انسان ۔۔۔۔ حیوان ۔۔۔۔
مال و اسباب سب کچھ بہا لے گیا ۔۔۔۔ میرے اہل و عیال مال و اسباب میں سے سوائے ایک اونٹ اور میرے ایک چھوٹے بچے کے علاوہ کچھ نہ بچا ۔۔۔۔ میں ابھی اس ناگہانی آفت سے سنبھلنے بھی نہ پایا کہ میرا اونٹ بھاگ گیا میں اس کے پیچھے گیا تو یکدم بچے کے چیخنے چلانے نے قدموں کو روک لیا ۔۔۔۔ الٹے پائوں واپس بچے کے پاس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بھیڑیئے نے میرے معصوم لخت جگر کو اپنے خونی جبڑوں میں دبوچا ہوا ہے اور وہ معصوم اس کے بے رحم جبڑوں میں زندگی کی بازی ہار چکا ہے ۔۔۔۔ یہ دلخراش منظر دیکھنے کے بعد میں پھر اس اونٹ کے پیچھے ہو لیا جب اس کے قریب پہنچا تو اس نے مجھے دولتی دے ماری جس کی وجہ سے میری بینائی چلی گئی ۔۔۔۔ اس طرح میں مال و عیال کے ساتھ ساتھ آنکھوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا ۔۔۔۔ ‘‘۔
اس کی یہ داستان غم سن کر ولید کی آنکھیں پرنم ہو گئیں اور اس نے کہا ۔۔۔۔ ’’جائو عروہ ابن زبیر سے کہہ دو تمہیں صبر و شکر مبارک! اس لئے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جو تم سے زیادہ غموں اور مصیبتوں کے مارے ہیں‘‘۔
میں دے کے غم جاناں کیوں عشرت دنیا لوں غم زیست کا حاصل ہے۔۔۔۔ اس غم سے مفر کیوں ہو(المستطرف)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

