خلق عظیم کا ایک عجیب واقعہ
حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے کہ جب آپ کے لئے ہجرت کا حکم ہو گیا تو آپ نے چاہا کہ میں بیت اللہ میںدورکعت نماز پڑھوں۔۔۔۔۔ یہ تو ظاہر تھا نہیں کہ آپ ہجرت فرما رہے ہیں‘ مگر اجازت آ چکی تھی‘ اس زمانہ میں عثمان شیبی کے ہاتھ میں کعبہ کی کنجیاں رہتی تھیں آپ نے فرمایا کہ شیبی!ایک دو منٹ کے لئے بیت اللہ کھول دو‘ میں دو رکعت پڑھ لوں‘اس نے آپ کو ڈانٹ دیا اس لئے کہ حکومت تواسی کی تھی‘ آپ کی تو تھی نہیں۔۔۔۔۔ آپ نے کچھ نرمی سے فرمایا کہ دوہی رکعتیں پڑھنی ہیں اس نے کہا کہ نہیں نہیں۔۔۔۔۔ بہرحال اس نے اجازت نہیں دی۔۔۔۔۔ آپؐ نے فرمایا کہ شیبی! ایک وقت آنے والا ہے میں تو اس جگہ کھڑا ہوا ہوں گا جہاں توکھڑا ہے اور تو اس جگہ کھڑا ہوا ہو گا جہاں میں کھڑا ہوا ہوں۔۔۔۔۔ اس وقت تیرا کیا حشر ہوگا۔۔۔۔۔ اس نے کہا کہ یہ سب تخیلات ہیں۔۔۔۔۔
شیخ چلی کی باتیں ہیں غرض اجازت نہ دی۔۔۔۔۔ بلا نماز پڑھے آپ واپس تشریف لائے۔۔۔۔۔ رات کو ہجرت فرمائی۔۔۔۔۔ یہ تیرہ برس کی زندگی آپ نے انتہائی پریشانیوں میں گزاری پھر ہجرت کیساتھ آٹھ سال بعد مکہ میں آپ کا فاتحانہ داخلہ ہوا۔۔۔۔۔ اور آپ نے مسجد حرام سے ابتداء کی وہاں آ کر آپؐ نے نماز پڑھی‘ کعبہ کی کنجیاں آپ کے ہاتھ میں دی گئیں‘ آپ کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ بلائو شیبی کو شیبی حاضر ہوا۔۔۔۔۔ فرمایا کہ وہ وقت یاد ہے کہ میں نے منت سماجت کی تھی کہ مجھے دو رکعت نماز پڑھنے دو۔۔۔۔۔ مگر تم نے اجازت نہیں دی تھی۔۔۔۔۔ اس نے کہاں ہاں یاد ہے اور فرمایا کہ یہ بھی یاد ہے کہ میں نے کہا تھا کہ ایک وقت آنے والا ہے۔۔۔۔۔ میں وہاں کھڑا ہوا ہوں گا جہاں تو کھڑا ہے اور تم یہاں کھڑے ہو گے جہاں میں کھڑا ہوں۔۔۔۔۔ آپؐ نے فرمایا کہ وہ وقت آ گیا ہے کہ میں کھڑا ہوں تیری جگہ اور تم کھڑے ہو میری جگہ‘ اس نے کہا ہاں وہ وقت آ گیا ہے فرمایا کہ اب تیرا کیا حشر ہونا چاہئے اس نے ایک ہی لفظ کہا کہ اخ کریم و نبی کریم میں کریم پیغمبر اور کریم بھائی کے سامنے ہوں۔۔۔۔۔
اس برائی کا بدلہ آپ نے یہ دیا کہ کعبہ کی کنجیاں سپردکیں اور فرمایا کہ نسلاً بعد نسل قیامت تک تیرے ہی خاندان کو دیتا ہوں یہ کنجیاں توآج تک وہ شیبی کا خاندان ہے جو برابر کلید بردار کعبہ ہے اور آدھے مکہ پر اس کی حکومت ہے لاکھوں کروڑوں کا سامان اس کی دکانوں میں پڑا ہوا ہے اور جسے چاہے اجازت دے اور جسے چاہے بیت اللہ کے داخلہ کی اجازت نہ دے‘ تو اس نے دو رکعت نہیں پڑھنے دی جواب میں آپ نے کنجیاں سپرد کر دیں اور فرمایا کہ لے یہ تیرے خاندان کو قیامت تک کے لئے دیتا ہوں یہ خلق عظیم نہیں تھا تو اور کیا تھا کہ ادھر سے زیادتی اور ادھر سے یہ کچھ لطف و کرم۔۔۔۔۔(خطبات طیب)
اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

