امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی فراست کا عجیب واقعہ

امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی فراست کا عجیب واقعہ

کا پروگرام بنایا کیونکہ آخری وار یہی ہوتا ہے (Public In sult)ایک مرتبہ حاسدین نے امام ابو حنیفہ ؒ کی ذلت و رسوائی
یہی کام منافقین نے کیا تھا کہ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہؓ پر بہتان باندھا تھا۔ اسی طرح قارون نے بھی حضرت موسیٰ ؑکے لئے اسی قسم کا حیلہ کیا تھا کہ ایک عورت کو آمادہ کیا کہ جب حضرت موسیٰ ؑ بیان کرنے کے لئے کھڑے ہوں تو مجمع میں کہہ دینا کہ انہوں نے مجھ سے گناہ کا مطالبہ کیا تھا۔ بے عزتی ہو جائے گی تو مجھے زکوٰۃ نہیں دینی پڑے گی۔ تاریخ میں اس قسم کے واقعات بہت ہیں۔ چنانچہ حاسدین نے سوچا کہ امام ابو حنیفہؒ کے دامن پر ایسا دھبہ لگا دیا جائے کہ لوگ بدظن ہو جائیں۔ لہٰذا انہوں نے ایک جواں عمربیوہ عورت سے رابطہ کیا کہ کسی حیلہ سے امام صاحب کو اپنے گھر بلا، ہم تمہیں اس کے بدلے میں بھاری رقم ادا کریں گے۔ عورت بیچاری پھسلتی بھی جلدی ہے اور پھسلاتی بھی جلدی ہے۔ وہ جھانسے میں آ گئی۔ چنانچہ امام ابو حنیفہؒ جب رات کو گھر جاتے وقت اس عورت کے گھر کے سامنے سے گزرے تو عورت باپردہ ہو کر نکلی اور کہنے لگی، امام ابو حنیفہؒ! میرا خاوند فوت ہو رہا ہے وہ کوئی وصیت کرنا چاہتا ہے اور وہ وصیت میری سمجھ میں نہیں آ رہی خدا کے لئے آپ وہ سن لیں۔ آپ گھر میں داخل ہوئے، عورت نے دروازہ بند کردیا کمروں میں چھپے ہوئے حاسدین باہر آ گئے اور کہنے لگے ابو حنیفہؒ آپ رات کے وقت ایک علیحدہ مکان میں اکیلی نوجوان عورت کے پاس برے ارادے سے آئے ہیں۔
چنانچہ اس عورت کو اورامام اعظمؒ کو لوگوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔ حاکم وقت تک بات پہنچی تو اس نے کہا انہیں فی الحال حوالات میں بند کردیا جائے۔ میں صبح کے وقت کارروائی مکمل کروں گا۔ امام اعظمؒ اور اس عورت کو ایک تاریک کوٹھڑی میں بند کردیا گیا۔ امام اعظمؒ باوضو تھے لہٰذا وہ نوافل پڑھنے میں مشغول ہو گئے۔ جب کافی دیر گزر گئی تو اس عورت کو اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ میں نے اتنے پاکدامن شخص پر بہتان لگایا ہے۔ جب امام اعظمؒ نے نماز کا سلام پھیرا تو وہ عورت کہنے لگی آپ ؒ مجھے معاف کردیں۔ پھر اس نے ساری رام کہانی سنادی۔ امام اعظمؒ نے فرمایا کہ اچھا جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا اب میں تمہیں ایک تدبیر بتاتا ہوں تاکہ ہم اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرسکیں۔ اس نے پوچھا وہ کیسے ؟
آپ ؒ نے فرمایا کہ تم اس پہریدار کی منت سماجت کرو کہ لوگ مجھے اچانک پکڑ کر لے آئے ہیں مجھے ایک ضروری کام سمیٹنے کیلئے گھر جانا ہے تم میرے ساتھ چلو تاکہ میں وہ کام کر سکوں۔ پھر جب پہریدار مان جائے تو تم میرے گھر چلی جانا اور میری بیوی کو صورتحال بتا دینا تاکہ وہ تمہارے اسی برقعے میں لپٹ کر یہاں میرے پاس آجائے۔ عورت نے رو دھو کر پولیس والے کا دل موم کرلیا اور یوں امام اعظمؒ کی اہلیہ صاحبہ حوالات میں ان کے پاس پہنچ گئیں۔ جب صبح ہوئی تو حاکم وقت نے طلب کیا کہ امام اعظمؒ اور اس عورت کو میرے سامنے پیش کیا جائے۔ حاسدین کا جم غفیر موجود تھا۔ جب پیشی ہوئی تو حاکم نے کہا کہ ابو حنیفہؒ تم اتنے بڑے عالم ہو کر بھی کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہو۔
امام اعظمؒ نے پوچھا کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ حاکم نے کہا کہ آپ ایک نامحرم عورت کے ساتھ رات کے وقت ایک مکان میں اکیلے دیکھے گئے ہیں۔ امام صاحبؒ نے فرمایا وہ نامحرم نہیں ہے۔ حاکم نے پوچھا وہ کون ہے؟ آپؒ نے اپنے سسر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ان کو بلائو تاکہ شناخت کریں۔ وہ آئے انہوں نے دیکھا تو فرمانے لگے کہ یہ تو میری بیٹی ہے میںنے فلاں مجمع میں ان کا نکاح ابوحنیفہ سے کردیا تھا۔ چنانچہ امام اعظمؒ کی خداداد فہم کی وجہ سے حاسدین کی تدبیر کارگر ثابت نہ ہوئی اور ان کی سازش خاک میں مل گئی۔ (ج 4ص23)

اگرآپ کو یہ واقعہ پسند آیا ہے تو اسکو شئیر ضرور کریں اور اس طرح کے دیگر اسلامی واقعات اور اولیاء اللہ کے حالات و تذکرے آپ ہمارے ویب سائٹ
https://readngrow.online
پر بالکل مفت میں پڑھ سکتے ہیں ۔
تمام اسلامی مواد اور دیگر کیٹگریز کو دیکھنے کے لئے یہ لنک وزٹ کریں
https://readngrow.online/readngrow-categories/
نیز ہم اس ویب سائٹ کی مفید چیزوں کو اس واٹس ایپ چینل پر بھی شئیر کرتے رہتے ہیں ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H
یہ چینل فالو کرلیں ۔

Most Viewed Posts

Latest Posts

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا

خواب ہدایت کا ذریعہ بنا ہم ایک دفعہ رشیا گئے ، ماسکو میں ایک نوجوان ملا، اس سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ کلمہ پڑھایئے، ہم نے کلمہ پڑھا دیا اور وہ مسلمان بن گیا۔ اس نے کہا کہ میں بائیس گھنٹے کی مسافت سے آیا ہوں، ہمارا ایک کلب ہے ’’ پریذیڈنٹ کلب‘‘ جس میں پینتالیس مرد...

read more

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق

ایک گنہگار کو توبہ کی توفیق ایک واقعہ سنئے! سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک نوجوان کو گناہ کی عادت تھی۔ لوگوں نے بات موسیٰ علیہ السلام تک پہنچائی، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو بلا کر سمجھایا۔ وہ پھر بھی مرتکب ہو گیا، پھر سمجھایا، پھر مرتکب ہو گیا۔ حضرت...

read more